146

صحافی ‘غیر ریاستی عناصر’

صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے ترجمان پاک فوج کی جانب سے صحافیوں پر حال ہی میں عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

پی ایف یو جے کا یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی اُس پریس کانفرنس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ ٹوئٹر پر غیر ریاستی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

اس سلسلے میں منگل کو پاکستانی صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ‘غیر ریاستی عناصر’ قرار دینے پر مبنی بیان واپس لیا جائے۔

بیان میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں آئین کی شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’کوئی کسی کی مخصوص بیان، تبصرے اور رائے سے اختلاف کا حق رکھتا ہے لیکن اسے غیر محب وطن کام قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ قومی سلامتی کے ایک ادارے کی جانب سے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔‘ پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کے اس اقدام نے ان صحافیوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے تنظیم کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح کی الزام تراشی سے قومی مفاد اور سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

پی ایف یو جے کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان میں ٹی وی چینلز کو بند کیا جا رہا ہے اور اخبارات کی ترسیل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں صحافیوں پر ریاستی اداروں کی جانب سے تشدد کے الزامات تو سامنے آتے رہے ہیں لیکن صحافتی تنظیموں نے ریاستی اداروں خصوصاً پاکستانی فوج کے خلاف اس طرح کے بیانات جاری نہیں کیے ہیں۔

تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومتیں بہت کمزور ہو گئی ہے اور آزادی اظہار رائے پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب چینل بند ہوتے تھے، اخبار کی ترسیل متاثر ہوتی تھی لیکن حکومت سے جب پوچھا جاتا تھا تو انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ ڈان لیکس کے حکومت سے میڈیا پر دباؤ کے بارے میں بات کی گئی تو جب تو انھوں نے بے بسی کا اظہار کیا، جس کے بعد متعلقہ ادراوں سے رابطہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بعض صحافی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

مظہر عباس نے کہا کہ اتنی ذمہ دار فوج کے ترجمان کی جانب سے اگر چارٹ کے ذریعے یہ بتایا جائے گا کہ ان صحافیوں کی سرگرمیاں ریاست کے خلاف ہیں یہ بہت تشویشناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘آپ نے کچھ صحافیوں کو ریاست مخالف قرار دے دیا ہے اور اُن پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے، یہ خطرناک موڑ ہے۔’

سوشل میڈیا صحافت نہیں ذاتی رائے
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنے کی ضرورت سوشل میڈیا کسی میڈیا ہاوس یا اخبار کی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ کسی صحافی کی ذاتی رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی صحافی کی پہچان سوشل میڈیا پر سرگرم ہونا بلکہ اُس کی صحافت ہے۔ جب اُسے میڈیا ہاوسز سے منسلک کیا جاتا ہے تو اس پر دباؤ بڑھتا ہے۔

آزادی اظہار رائے کی جدوجہد مشکل
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب میڈیا ہاوسز اور صحافتی تنظیموں میں بہت دھڑا بندی ہے اور اب میڈیا ہاوسز کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا ہاوسز اور میڈیا اداروں کی تقسیم کی وجہ سے آزادی اظہار رائے کی جدوجہد نہ صرف مشکل ہو گئی بلکہ نامکن دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب سینیر صحافی اور ہم نیوز کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز عامر ضیا کہتے ہیں کہ وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا۔ لوگوں کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک فلائیر دکھایا تھا جس میں چند خالی جگہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتعال انگیز پراپیگنڈہ وہاں سے شروع کیا جاتا ہے۔ اسے بہت سے لوگ اس پراپیگنڈے کو جانے انجانے میں آگے پھیلا رہے ہیں۔

پی ایف یو جے کی طرف سے جاری اس بیان کے بعد مختلف صحافیوں کی طرف سے اس پر بھرپور رد عمل سامنے آیا اور صحافیوں نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔

حالیہ چند مہینوں میں فوج کی طرف سے میڈیا اداروں پر دباؤ کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے اور بعض صحافتی تنظیموں کی طرف سے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس دباؤ کی وجہ سے صحافتی اداروں میں سیلف سنسرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے بعض نامور کالم نگاروں نے اپنے کالم سوشل میڈیا پر شائع کرتے ہوئے یہ شکایت کی ہے کہ ان کے یہ کالم ان کے اخبارات نے شائع نہیں کیے اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں