37

فاٹا عبوری گورننس ریگولیشن 2018 میں کیا ہے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق وفاقی بل کی توثیق تو ہوگئی ہے، لیکن صدر پاکستان کی جانب سے اس کی منظوری ابھی باقی ہے۔ تاہم پاکستان صدر ممنون حسین نے فاٹا عبوری گورننس ریگولیشن 2018 کی منظوری دے دی ہے۔

کیا نیا، کیا پرانا؟

یقیناً سوا صدی تک چلنے والے برطانوی راج کے نظام کو چند دن میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ قبائلی عوام کی توقعات تو یہی ہیں کہ فوراً ڈیڑھ سو سال پرانا قانون ایک دن میں درست ہو جائے لیکن اس کے لیے وقت اور وسائل درکار ہوں گے، انتظامی ڈھانچہ تیار کرنا ہو گا، جس علاقے میں تھانہ یا عدالت نہیں تھی وہاں اگر یہ بنائی جاتی ہیں تو آغاز پہلی اینٹ سے کرنا پڑے گا۔

تو جہاں ایک جانب یہ حکومت کی کمٹمنٹ کا کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ واقعی اس مسئلے کو وسائل اور توجہ دینے کے لیے تیار ہے، تو دوسری جانب عام قبائلیوں کے صبر کا مسلسل امتحان بھی رہے گا۔

ایف سی آر ختم
سنہ 1901 میں نافذ کیا گیا بدنام زمانہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) صدر ممنون حسین کے نئے فاٹا انٹیرم (عبوری) گورننس ریگولیشن 2018 پر دستخط سے ختم ہو گیا ہے۔

تاہم ابھی 31ویں آئینی ترمیم پر ان کے دستخط باقی ہیں جس سے آئین پاکستان بھی تبدیل ہو جائے گا اور فاٹا کا نام خیبر پختونخوا سے تبدیل ہو جائے گا۔

ایف سی آر کی طرز پر حکومت کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی عمارت ضبط کرنے کا اختیار حاصل رہے گا۔ تاہم ماضی میں ایف سی آر کے تحت ایسی عمارت یا مکان کو مسمار کر دیا جاتا تھا۔

ریگولیشن کی مددت کا تعین نہیں
نئے ریگولیشن کی کاپی بی بی سی کو بھی ملی ہے جس کے مطابق 15 صفحات پر مشتمل یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔ تاہم اس میں اس کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ یا مدت کا ذکر نہیں ہے۔

تاہم شق 52 (2) کے مطابق فاٹا کے مکمل انضمام تک یہ ریگولیشن نافذ العمل رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے ختم یا اس میں ترمیم کے لیے ایکٹ منظور کرے۔

دیکھا یہی گیا ہے کہ اس طرح کی اوپن اینڈڈ باتیں ہمیشہ طول پکڑ جاتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید یہ ریگولیشن دو سال کی عبوری مدت کے لیے ہوں گی جس دوران قبائلی علاقوں میں انتظامی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔

اس سے شاید یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری اسے دو سال کی مدت میں ختم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں پراعتماد نہیں یا پھر وہ زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے ماضی کی طرح آہستہ آہستہ پیش رفت کرنا چاہتی ہے، لیکن اگر اس میں مدت کا تعین کیا گیا ہوتا تو شاید قبائلیوں کو زیادہ اعتماد دیتے۔

پرانے قانون میں سب سے بڑی انقلابی تبدیلی تو یہی ہے کہ برطانوی سامراج کی نشانی یعنی ایف سی آر کا جسے لوگ کالا قانون کہتے تھے خاتمہ ہوا ہے۔

اجتماعی ذمہ داری کے خوفناک قانون سے قبائلیوں کو نجات مل گئی ہے جس کے تحت کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا پورے خاندان یا قبیلے کو ملتی تھی۔

نئے قانون میں ایسا کچھ نہیں لیکن نئی ریگولیشن کی شق 20 کے تحت کسی شخص یا گروہ کو جو ریاست یا پاکستان میں موجود کسی شخص کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کرنے کا حق انتظامیہ نے رکھا ہے۔

اب اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ اس شخص کی سرگرمیاں کس نوعیت کی تھیں۔ نئے ریگولیشن کے تحت ماضی کے پولیٹکل ایجنٹ کو جسے اب ڈپٹی کمشنر کہا جائے گا اختیار ہے کہ وہ کسی قبائلی کی سرکاری مراعات کسی سنگین جرم کی سزا کے طور پر بند کر سکتا ہے۔

گرفتار شخص کی عدالت میں پیشی کب؟

مقامی انتظامیہ کی جانب سے کسی گرفتار شخص کو کب تک عدالت میں پیش کیا جانا ضروری ہے؟ اس بارے میں ریگولیشن مکمل خاموش ہے۔ ہاں اب گورنر کو فوری طور پر گرفتاری کے بارے میں آگہی دی جائے گی۔

قانون کے ماہرین مانتے ہیں کہ شفافیت کا تقاضہ ہوتا ہے کہ کسی ملزم کو گرفتاری کے فوری بعد عدالت میں جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس کے خلاف الزامات معلوم ہو سکیں اور اس کے اہل خانہ کو بھی معلوم ہو سکے کہ وہ کہاں ہے۔

وہ جو گرفتار نہیں کیے جاسکیں گے
اس قانون کی مثبت بات یہ ہے کہ اس میں 16 سال سے کم عمر بچوں، عورتوں اور 65 سال سے اوپر کی عمر کے افراد کو گرفتار نہ کرنے کی واضح ہدایت ہے۔ امید یہی کی جاسکتی ہے کہ محض پولیٹکل ایجنٹ سے ڈپٹی کمشنر، نام کی تبدیلی ہی نہ ہو۔

ایف سی آر کے فیصلوں کی توثیق
ریگولیشن کی شق 52 کے تحت ماضی میں ایف سی آر کے تحت اٹھائے گئے تمام فیصلوں اور سزاؤں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ ماضی کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج نہ کیا جا سکے۔

ریگولیشن میں ترمیم
نئے قانون میں گورنر خیبر پختونخوا کو اسے نافذ کرنے اور اس میں ترامیم کا کلی اختیار دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا اس بابت کوئی کردار واضح نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس ریگولیشن کی تیاری میں حکومت نے بظاہر قبائلیوں یا سیاسی جماعتوں میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں