76

انٹرنیٹ صارفین کو لاحق خطرات

پاکستان سمیت ایشیا کے مختلف ممالک میں انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکام کی طرف سے اپنے تئیں نامناسب تصور کیے جانے والے خیالات کو دبانے کے لیے مختلف قوانین کا استعمال ایک نئے طریقے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ بات ایشیائی ممالک میں آن لائن اظہار رائے کی آزادی پر نظر رکھنے والی ایک مؤقر تنظیم ‘ایسوسی ایشن فار پروگریسو کمیونیکیشن’ نے مختلف ممالک کی سماجی تنظیموں کے اشتراک سے مرتب کردہ رپورٹ میں کہی جس کا اجراء منگل کو کوالالمپور میں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومتیں لوگوں کی آن لائن سرگرمیوں کو کنٹرول کر رہی ہیں اور ایسے قواعد و ضوابط لوگوں کی آزادی اظہار اور جمہوری عمل میں ان کی شرکت کی صلاحت کے لیے ایک قابل ذکر چیلنج ہیں۔

پاکستان سے اس رپورٹ کے لیے تحقیقات میں معاونت کرنے والی تنظیم ‘میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی’ کی ڈائریکٹر صدف خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس رپورٹ میں مختلف قوانین کا جائزہ لیا گیا جو کسی نہ کسی طور سے آن لائن خیالات کے اظہار سے وابستہ ہیں اور حالیہ چند برسوں میں انھیں کس طرح استعمال میں لاتے ہوئے اس حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کے بقول جو بنیادی مسئلہ سامنے آیا وہ یہ تھا کہ ایسے قوانین بھی ہیں جن کے تحت ایک ہی نوعیت کے آن لائن ہونے والے جرم کی سزا انٹرنیٹ کے علاوہ ہونے والے جرم سے زیادہ ہے جو ایک عجیب و غریب تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

“پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298 جو دانستہ طور پر کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق ہے جس کی سزا ایک سال قید ہے لیکن سائبر کرائمز قانون کی شق 10۔اے میں اس کی سزا سات سال تک ہے۔ انسداد دہشت گردی کے قوانین بار بار استعمال ہو رہے ہیں۔ آن لائن اظہار رائے خاص طور پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رائے کو جرم قرار دینے کے لیے ایسے کیسز بھی سامنے آئے کہ سائبر کرائمز کے قانون کی مختلف شقوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حکام کی طرف سے لوگوں کو ہراساں کیا گیا۔”

صدف خان کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھی ایسی بات کرنا جس سے حکومت کے اندر غیر محفوظ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہو اس پر دہشت گردی کی دفعہ لگ سکتی ہے۔

“اس طرح کی چیزیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شاید ہماری حکومت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کو جمہوری عمل کے طور پر دیکھے کہ اس سے ہماری سیاسی و جمہوری اقدار کے پنپنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔”

حکومت سائبر قوانین کے تناظر میں پہلے بھی ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کرتی رہی ہے کہ ان قوانین کے تحت کارروائی کا ایک منظم طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کی نگرانی ایک پارلیمانی پینل بھی کرتا ہے۔

عہدیداروں کے بقول حکومت آزادی اظہار پر قدغن کی خواہاں نہیں۔ لیکن اس کی آڑ میں کسی کو قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

حالیہ مہینوں میں ایسے کئی ایک واقعات سامنے آئے ہیں جن میں سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا استدلال ہے کہ ایسے اقدام سے آن لائن اظہار رائے کی فضا سکڑتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں