109

اندھا بانٹے ریوڑیاں،اپنوں ہی کودے

سینیٹ الیکشن 2018ء کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے اپنی اپنی پارٹی کی طرف سے مخلص افراد کو ٹکٹ جاری کیے،جس میں ہمیشہ کی طرح اس بات کا قطعاً خیال نہ رکھا گیا کہ ان افراد کا تعلق اس صوبہ سے ہے بھی کہ نہیں، جہاں کی اسمبلی کی سیٹ کے لیے ان کو نامزد کیا گیا ہے۔

حکومتی جماعت (ن لیگ) کے توہین عدالت کے باعث نااہل ہونے والے سینیٹر نہال ہاشمی کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے تھا، جبکہ انہیں ان کی جماعت نے پنجاب سے سینیٹر منتخب کروا رکھا تھا۔اسی طرح گزشتہ دنوں اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے والے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات مصطفی نواز کھوکھر کہ جن کا کردار چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور پنجاب کے میڈیا و اینکرز کے درمیان فاصلے کم کرانے میں خاصا اہمیت کاحامل رہا،سندھ سے پارٹی کے سینیٹ کے امیدوار ہیں، حالانکہ ان کا بھی صوبہ سندھ سے قطعاً کوئی لینا دینا نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے شاہی سید جو کہ گزشتہ5 دہائیوں سے سندھ کی سیاست میں پشتون کی نمائندگی کرتے دیکھائی دیتے ہیں،ان کی پارٹی نے انہیں خیبرپختونخوا سے سینیٹر منتخب کروا رکھا ہے،حالانکہ وہ اپنے 47سالہ سیاسی کیرئیر میں خیبرپختونخوا کی سیاست سے ہمیشہ ہی باہر رہے،البتہ گماں ہے کہ ان کو یہ سینیٹ کی سیٹ پارٹی سربراہ نے اپنے سمدھی ہونے کے ناطے بطور انعام دی ہو۔

شاہی سید جو کہ اپنی شعلہ بیانی اورسندھ میں اپنے آپ کو پشتون کا نمائندہ کہلانے کے باوجودعام انتخابات میں اس صوبہ سے سیٹ نہ نکال پائے، ان کو ایک غیر صوبہ سے ایوان بالا کے لیے ممبر منتخب کرانا صرف پارٹی سربراہ کی نوازش کے علاوہ کچھ ہو بھی نہیں سکتا۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے لندن سے تعلق رکھنے والے زبیر گل کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا،جن کا صرف بیرون ملک پارٹی قیادت کو پروٹوکول دینے کے علاوہ کبھی بھی پاکستانی سیاست میں کوئی کردار دیکھائی نہیں دیتا۔اسی طرح مسلم لیگ ن کی جانب سے اسلام آباد کی سینیٹ سیٹوں پر بھی امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نامزد کرنا صرف پارٹی سربراہ کی جانب سے ذاتی حیثیت میں نوازنے کے علاوہ کچھ نہیں۔حکومتی جماعت کی جانب سے غیر ملکی سیاسی شخصیات کو امپورٹ کرکے ملکی سیاست میں پلانٹ کرنے کاتجربہ نیا نہ ہے،کیوں کہ مسلم لیگ ن اس سے قبل بھی چودھری سرور کی شکل میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے فرد کو بطور گورنر پنجاب منتخب کرکے مقامی سیاسی شخصیات پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔

اگر ہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ اور مخصوص نشستوں پر دی جانے والی ٹکٹوں کی اس بندر بانٹ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں بھی بادشاہت کا نظام رائج ہے، جہاں بادشاہ اپنے پسندیدہ خادمین کوصرف خوشامد اور آگے پیچھے چکر کاٹنے کے عوض اپنے دربار میں اعلیٰ مقام سے نواز دیتا ہے۔

ایوان بالا (سینیٹ) وہ ادارہ ہے کہ جہاں ممبران تمام صوبائی اسمبلیوں میں موجود عوامی نمائندوں کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوکر پہنچتے ہیں،جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس ایوان کی اتنی بے توقیری کی جارہی ہے کہ وہاں ایسے غیر متعلقہ افرادکو لا کر براجماں کیا جاتا ہے کہ جن کا اس صوبہ سے تعلق ہی نہیں ہوتا، جس کی نمائندگی کرنے وہ ایوان میں پہنچے ہیں۔

اسی قسم کی صورتحال اقلیتوں اورخواتین کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے موقع پر بھی نظر آتی ہے۔سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایسی غیر معروف شخصیات کو یہ نشستیں عنایت کردی جاتی ہیں کہ جن کا سراسر سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین کی یہ مخصوص نشستیں کسی وزیر کی اہلیہ، مشکل وقت میں ساتھ نبھانے والے بیوروکریٹس کی بیگمات یا پھر پارٹی سربراہان کے گھریلو امور میں اہلِ خانہ کی معاونت کرنے والی خواتین کے حصہ میں آتی ہیں۔

کئی کئی دہائیوں سے پارٹی کے لیے گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے والی جیالیاں اورپارٹی صدرکی جلا وطنی کے دور میں سڑکوں پر وومن فورس سے ڈنڈے کھانے والی خواتین ورکرز ایسے موقعوں پربھی صرف ہاتھ ملتی رہ جاتی ہیں۔ہمارے سیاسی سربراہان کی جانب سے لائق اہل ولائق افراد کے بجائے اپنوں اپنوں میں ریوڑیاں تقسیم کرنے کے باعث ہی ملکی سیاست آج غیر یقینی صورتحال سے دوچارہے اور قانون ساز ادارے آج اس قدر کمزور ہیں۔

تحریر:
عمیر لطیف
دنیا میڈیا گروپ

اپنا تبصرہ بھیجیں