64

سینیٹ کی اہمیت اور اہم قانون سازی

تین مارچ کو پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا، یعنی سینیٹ کے الیکشن منعقد ہو رہے ہیں، جس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ممبران سینیٹ کے 52 اراکین کو منتخب کریں گے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سنبھالنے سے نااہل قرار دیا گیا۔ جس کے بعد مسلم لیگ ن مشکلات کا شکار ہے کیونکہ اب اس کے امیدوار پارٹی کے بجائے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں گے۔

لیکن اگر ن گروپ کے پیش کردہ امیدوار جو اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں، جیت کر اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں تو ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ایک ہی جماعت کی اکثریت ہوگی۔

اس صورت میں سینیٹ کے پچھلے چھ سال اور بالخصوص آخری تین سالوں کے کردار کا اثر واضح طور پر سامنے آئے گا کیونکہ ان تین برسوں میں سینیٹ ہی وہ واحد ادارہ تھا جس نے حکومت کے سامنے ایک موثر حزب اختلاف کا کردار ادا کیا اور کئی اہم قوانین بنائے۔

سال 2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی سربراہی میں ایوان بالا نے مسلم لیگی حکومت کے سامنے ’چیک اینڈ بیلینس‘ فراہم کرنے کا وہ کردار ادا کیا ہے جو ایوان زیریں میں نظر نہیں آیا تھا۔

پارلیمانی امور کے نگراں ادارے فافن کے شہزاد انور کا کہنا ہے کہ 2015 کے بعد سے سینیٹ میں سب سے اہم تبدیلی ادارے میں شفافیت اور خود احتسابی ہے۔انھوں نے بتایا کہ نئی آنے والی تبدیلیوں کے مطابق اراکین سینیٹ کے لیے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت اور ساتھ ساتھ حکومتی افسران اور وزرا کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نئے قوانین وضح کیے گئے۔ لیکن سینیٹ کا سب سے اہم کردار حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی پر بحث، ان میں اصطلاح اور خود نئی قانون سازی کرنا تھا۔

اس کے علاوہ ایوان بالا نے متعدد ایسے بل جو کہ سینیٹ سے پاس ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں زیر التوا تھے انھیں دوبارہ ممبران کے سامنے پیش کیا جس کے بعد انھیں قانون کی حیثیت دے دی گئی۔

سال 2013 میں انسداد ریپ کا بل پیش کیا گیا تھا جو کہ سینیٹ سے منظوری کے باوجود قومی اسمبلی میں رکا ہوا تھا۔ اکتوبر 2016 میں اس بل کو پاس کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ کارو کاری کو خلاف قانون 2014 میں بنایا گیا تھا۔ یہ بل بھی التوا میں تھا جسے اکتوبر 2016 میں منظور کیا گیا۔

لیکن دوسری جانب پشاور کے آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد اسمبلی میں پیش کی گئی 21ویں ترمیم کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن رضا ربانی نے کہا کہ انھیں اس ترمیم کی بدولت فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دینے کے لیے ووٹ کرنے پر ’نہایت شرمندگی ہے۔‘ سال 2017 میں سینیٹ نے معلومات تک رسائی یا رائٹ ٹو انفارمیشن بل کو بھی اگست میں منظور کر کے قانونی حیثیت دی۔

مئی میں یہ بل قومی اسمبلی سے سینیٹ گیا تھا لیکن سول سوسائٹی نے اس پر میں کافی خدشات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد بل میں ترمیم کر کے اُسے سینیٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں یہ بل منظور ہوا۔

اس کے علاوہ اکتوبر 2017 میں سینیٹ سے الیکشن ایکٹ 2017 بھی ترامیم کے بعد منظور ہوا جس کے بارے میں مذہبی جماعتوں نے اپنے خدشات کے اظہار کیا تھا کہ اس میں ختم نبوت کے منافی قانون سازی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 وہی بل ہے جس کے تحت پاکستان مسلم لیگ ن نے یہ ترمیم شامل کی تھی کہ نااہل قرار دیا گیا رکن قومی اسمبلی کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔

اس ترمیم کی بدولت جولائی 2017 میں پاناما کیس کے مقدمے میں نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت بدستور سنبھالے رکھی لیکن فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے اس قانون سازی کو معطل قرار دے دیا۔

تحریر:
عابد حسین
بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں