73

زینب قتل کیس: شاہد مسعود کے دعوے جھوٹے ثابت

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں نجی ٹی وی چینل ’نیوز ون‘ کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے قصور میں آٹھ سالہ زینب کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم عمران علی کے بارے میں کیے جانے والے دعوؤں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زینب قتل سے متعلق ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے پروگرام میں ملزم عمران علی کے بارے میں جو 18 مبینہ حقائق سامنے لے کر آئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہ تو ملزم عمران علی کے پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کے 37 اکاونٹس ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے کسی بین الاقوامی گینگ سے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے ٹی وی پروگرام میں جو دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزم عمران علی نے زینب کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو بین الاقوامی گینگ کو بھجوائی ہے اس کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔

ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں مذکورہ اینکر پرسن کے اس دعوے کی بھی نفی کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم عمران علی کی پشت پناہی ایک وفاقی وزیر کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ زینب قتل کیس سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کو طلب کیا تھا۔

عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے کہا تھا کہ اگر ان کے تمام دعوے جو انھوں نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کیے تھے جھوٹے ثابت ہوئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس موقع پر کمرۂ عدالت میں موجود متعدد صحافیوں نے شاہد مسعود کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو وہ عدالت سے معافی مانگ لیں لیکن وہ اپنے دعوے سچے ہونے پرچار کرتے رہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعد زینب قتل کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں