102

خیبر پختونخوا: اب نیت کا امتحان ہو گا

خیبر پختونخوا میں اطلاعات تک رسائی کے قانون میں ترامیم کی تجویز ہے اور اب متعلقہ حکام معلومات حاصل کرنے کی وجوہات پوچھیں گے یعنی نیت جانی جائے گی کہ معلومات کیوں حاصل کی جا رہی ہیں۔

بل کے مطابق یہ دیکھا جائے گا کہ یہ معلومات کسی ‘میلافائڈ’ یا ‘بیڈ فیتھ’ مقصد سے تو حاصل نہیں کی جا رہیں، جس کا مطلب بدنیتی یا بے ایمانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ترمیمی بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر متعلقہ افسر اسے عوامی مفاد کے منافی سمجھے گا تو پھر معلومات فراہم نہیں کی جا سکیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2013 میں اطلاعات تک رسائی کے حق کا قانون منظور کیا تھا اور اس قانون پر حکومت اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین فخر کیا کرتے تھے کہ اس طرح کا قانون کسی اور صوبے نے منظور نہیں کیا۔

ماہرین نے بھی اسے بہتر قانون قرار دیا تھا لیکن عمران خان کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور بلین ٹری سونامی کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد حکومت نے اس قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے اور آج اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈے پر یہ ترمیمی بل موجود تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے اب حق چھینا جا رہا ہے اور اب اطلاعات یا معلومات حاصل کرنے والے کو بتایا ہوگا کہ وہ کس نیت سے یہ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر متعلقہ افسر کو یہ لگے کہ یہ معلومات فراہم کرنا عوامی مفاد میں نہیں ہو تو پھر شہری معلوم کے حق سے محروم رہےگا۔

اطلاعات فراہم کرنے والے افسر کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ سمجھے کہ یہ معلومات فراہم کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے تو پھر افسر متعلقہ محکمے کے مجاز افسر سے معلومات فراہم کرنے کے لیےاجازت حاصل کرے گا۔

معلومات حاصل کرنے والے شہری کومطلوبہ وجوہات بیان کرنا ہوں گی جس سے یہ ثابت ہو کہ جومعلومات حاصل کی جا رہی ہیں وہ عوامی مفاد میں استعمال ہوں گی۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی کی ویب سائئٹ پر ایجنڈے کی کاپی میں اس بل کا ذکر تھا اور بل کی نقل بھی موجود تھی۔

اس ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ دیگر ترامیم کے ساتھ سا تھ اب اطلاعات دس دن کے بجائے 30 دن تک فراہم کی جا سکیں گی۔ یہ ترمیمی بل آج ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکا اور امید ہے کہ اجلاس جمعے کے روز منعقد ہوگا جس میں یہ ترمیمی بل پیش کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں