113

سپریم کورٹ: 100 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک سو سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت اس جائیداد کو جو کہ 56 مربع اراضی بنتی ہے اس کے ورثا میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق جائیداد کی یہ تقسیم قانون وراثت کے تحت کی جائے گی اور اس قانون کے تحت جس کا جتنا بھی حصہ بنتا ہے اس کو اس سے کچھ زیادہ نہیں دیا جائے گا۔

پنجاب کے شہر بہاولپور کے علاقے خیر پور ٹامے والی کے رہائشی محمد نصراللہ کی پڑدادی روشنائی بیگم نے جو اس وقت بھارتی صوبے راجستھان میں رہائش پذیر تھیں، جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اپنے بھائی شہاب الدین کے خلاف ایک درخواست 1918 میں سول عدالت میں دائر کی تھی۔

محمد نصر اللہ کے مطابق برصغیر کی تقسیم سے پہلے یہ درخواست راجستھان میں بھی زِیر سماعت رہی اور پاکستان کے قیام کے بعد اس جائیداد کے بدلے میں جو بھارت میں رہ گئی تھی، پاکستانی حکومت کی طرف سے ضلع بہاولپور اور ضلع مظفر گڑھ کے علاقے میں زرعی اراضی کے 36 ہزار یونٹ فراہم کیے گئے جو کہ 56 مربع بنتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے تمام فریقین کے وکلا کو حاضر ہونے کا حکم دے رکھا تھا جبکہ گذشتہ سماعت کے دوران فریقین نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آئندہ سماعت پر حاضر ہوں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام ورثا کو جائیداد میں سے حصہ دیا جائے اور کسی کو بھی اس کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت اس جائیداد کے قانونی ورثا کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان قانونی ورثا میں جائیداد کی مساوی تقسیم ایک مشکل عمل ہوگا۔

درخواست گزار نصراللہ کے مطابق قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کے بعد اس کی بیوہ چھوڑی ہوئی جائیداد سے مستفید تو ہو سکتی ہے لیکن اس کو نہ تو اپنے نام کرواسکتی ہے اور نہ ہی اس کو فروخت کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق شہاب الدین کی وفات کے بعد ان کی بیوہ امام سین نے پاکستان کی عدالت میں معاملہ زِیر سماعت ہونے کے باوجود سنہ 1960 میں یہ تمام جائیداد اپنے نام کروالی تھی جس کے خلاف روشنائی بیگم کے پڑپوتے نصراللہ نے درخواست دائر کی تھی جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔

واضح‌رہے کہ گزشتہ سال عدالتی کارروائی کے بعد اس درخواست کی پیروی کے لیے سینکٹروں میل دور سے آئے ہوئے افراد نے سپریم کورٹ کے کار پارک میں اس مقدمے کی 99 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا تھا اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ سنچری پوری ہونے سے پہلے اس مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا تاہم پاکستان کا عدالتی نظام درخواست گزاروں کی خواہش پوری کرنے میں ناکام رہا اور عدالت عظمی سو سال کا منفرد ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوگیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں