73

صحافت کا معیار اتنا کیوں گر گیا؟

صحافت کا بے ہنگم دور دورہ ہے ۔مجھ سمیت بہت سے پاکستانی اس بات پر پریشان ہیں کہ صحافت کا معیار اتنا کیوں گر گیا ہے؟ سنی سنائی بات پرکسی ثبوت کے بغیر خبر چلادی ،اس سے ایک بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو ہر طرف سرایت کر جاتا ہے ۔اس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ اگر کسی ٹی وی چینل پر اس طرح کی خرافات پھیلائی جاتی ہیں تو لوگ اس چینل کو دیکھنا بند کردیں ۔

دوسرے یہ کہ کسی فرد کے خلاف ایسی باتیں کہی جائیں جو بے بنیاد اور غلط ہوں تو اس چینل ،اینکر یا متعلقہ صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں سزائیں ہونی چاہئیں، یہ بات درست ہے کہ عدالتوں میں بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں لیکن عدالتوں کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ،کیا ایک شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود سزا دے دینی چاہئے ؟ ۔ایسا کرنا بہت غلط ہوگا،

در اصل پاکستان کے نظام قانون کو ہی بہتر بنانا ہوگا،اس کی بہت سی تراکیب سامنے آئی ہیں ۔لوگوں نے متعدد تجاویز دی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر عملدرآمد کیا جائے۔

برطانیہ ،جاپان اور دیگر یورپی ممالک میں ہتک عزت کے قوانین موجود ہیں، اگر کسی پر جھوٹا الزام لگایا جائے تو وہ عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ اسے مل بھی جاتا ہے اس لئے عدالتی نظام کو بہتر کرنے کے سواکوئی راستہ نہیں ہے ، اگر ہر شخص کو کسی ثبوت اور شواہد کے بغیر کسی کی پگڑی اچھالنے کی چھوٹ دے دی گئی تو اس سے سارے دروازے کھل جائیں گے اور معاشرے میں بہت بگاڑ پیدا ہوگا، ٹی وی چینلوں پر اس قسم کی دوڑ بڑھ رہی ہے ۔

ہر چینل سنسنی خیز چیزیں نشر کرنا چاہتا ہے جس نے سب سے زیادہ تہلکہ مچا رکھا ہے اس کی دکان سب سے زیادہ چلتی ہے ۔جب صرف پی ٹی وی ہوتا تھا،اس سے لوگوں کو بہت سی شکایات بھی تھیں خاص طور پر جب خبروں اور حالات حاضرہ کی بات کی جاتی تھی لیکن پی ٹی وی میں کبھی اس طرح کی گھٹیا نشریات نہیں ہوتی تھیں ۔ایسی الزام تراشیاں نہیں ہوتی تھیں جیسا کہ آج کل ہو رہی ہیں ۔

سپریم کورٹ نے اس صورتحال از خود کا نوٹس لیا ہے ۔یہ اچھا اقدام ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ کے حوالے سے ہے جبکہ ایسے بہت سے واقعات ہیں اور یہ تقریباً ہر روز ہورہے ہیں،سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پہل کی مگر اس پورے نظام کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تحریر:
ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

اپنا تبصرہ بھیجیں