48

’گل مکئی‘ ملالہ کی زندگی پر مبنی بھارتی فلم

بالی وڈ میں پہلی بار ’گل مکئی‘ کے نام سے نوبل امن نعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی زندگی پر ایک فلم بن رہی ہے جس میں ان کی جرات مندی، شجاعت اور حقیقی واقعات کو پیش کرنے کی کوشش کی جائےگی۔

اس فلم میں شدت پسندی کے خلاف پاکستانی فوج اور عوام کی قربانیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی توجہ دی جائےگی کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی معاشرہ کیسے ثابت قدم رہا۔ فی الوقت اس فلم کی شوٹنگ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہو رہی ہے۔ بالی وڈ کے ڈائریکٹر امجد خان اس فلم کے ہدایت کار ہیں جبکہ آنند کمار اس کے پروڈیوسر ہیں۔ ملالہ کا کردار ٹی وی کی اداکارہ ریم شیخ کر رہی ہیں جبکہ اداکارہ دیویا دتہ ان کی ماں رول ادا کریں گی۔ مکیش رشی، ابھیمنیو سنگھ اور اعجاز خان فلم کے دوسرے اہم کردار ہیں۔

ہدایت کار امجد علی خان کا کہنا ہے کہ یہ فلم ملالہ یوسف زئی کے اس سفر کی کہانی ہے جو وادی سوات کے ایک سکول سے ہوتے ہوئے سب سے کم عمر میں نوبل امن انعام پانے تک پر مشتمل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس فلم کا بیشتر حصہ ممبئی اور ریاست گجرات کے مختلف حصوں میں پہلے ہی شوٹ کیا جا چکا ہے اور کشمیر میں اس کے آخری مرحلے پر کام چل رہا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج اور عوام کی جد و جہد، دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں عوام، فوج، اور ملالہ یوسف زئی کی ثابت قدمی جیسے پہلو بھی فلم کا حصہ ہیں۔‘‘ امجد خان کا مزید کہنا تھا، ’’کشمیر کے مقامی لوگ فلم کی شوٹنگ کے تعلق سے بہت تعاون کر رہے ہیں۔ ہم نے ملالہ کے سکول کی ساتھی طالبات کے لیے یہاں کی مقامی سکول کی طالبات کو ہی کاسٹ کیا ہے۔‘‘

20 سالہ ملالہ کا کردار ادا کرنے والی نوجوان ریم شیخ ٹی وی کی مقبول ترین اداکارہ ہیں جنھوں نے دو ہزار نو میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے ’’دیا اور باتی‘‘، ’’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘‘ اور ’’نہ بولے تم اور نہ میں نے کچھ کہا‘‘ جیسے ٹی وی سیریل سے کافی مقبولیت اور شہرت حاصل کی ہے۔

گل مکئی نام کی ایک طالبہ سوات کے حالات سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے ایک ڈائری لکھا کرتی تھیں۔ بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ ملالہ یوسف زئی دراصل یہ ڈٓائری لکھا کرتی تھیں۔

ریم شیخ کہنا ہے کہ ملالہ کی شخصیت انھیں بہت پسند ہے، ’’ملالہ نے تو ہم سبھی لڑکیوں کے لیے گولی کھائی تھی، میں ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں۔ مجھے توقع ہے کہ میں ان کے کردار کو بہتر طریقے سے نبھا پاؤں گی۔‘‘ ریم کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں فلم شوٹنگ کے لیے آنا بہت ہی خوشگوار تجربہ ہے: ’’کشمیر کے علاوہ ملالہ کے مطابق حقیقی لوکیشنز کہیں اور نہیں مل پاتے۔ ہم بہت خوش ہیں کہ یہاں کے لوگوں نے فلم کی شوٹنگ کو بہت سپورٹ کیا۔‘‘ ریم شیخ اس سے پہلے ایک فلم ’’وزیر‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر چکی ہیں لیکن ایک اہم کردار کے طور پر یہ ان کی پہلی فلم ہے۔

اس فلم کا نام ’گل مکئی‘ کیوں ہے؟

یہ سنہ دو ہزار چھ اور سات کا زمانہ تھا جب پاکستان شمال مغربی علاقے سوات میں طالبان کی جانب سے اسکولوں کو منہدم کرنے کی آئے دن خبریں آتی رہتی تھیں اور ہر جانب دہشت کا ماحول تھا۔ اس دوران بی بی سی کی اردو سروس نے اپنی ویب سائٹ پر دیگر خبروں کے ساتھ ہی اسکول کی ایک طالبہ سے روزمرہ کے تجربات شیئر کرنے کے لیے ڈائری لکھوانی شروع کی۔ یہ ڈائری گل مکئی نام کی ایک طالبہ لکھا کرتی تھیں۔ ابتدا میں کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ گل مکئی اصل میں ہے کون، لیکن پھر انھیں انہی ڈائریوں کی وجہ سے شہرت ملی اور انھوں نے اپنے علاقے میں بچوں کی تعلیم کے لیے جد و جہد کا آغاز کیا۔

بعد میں حقیقت کا انکشاف ہوا کہ اصل میں ڈائری ملالہ ہی لکھا کرتی تھیں۔ اسی مناسبت سے اس فلم کا نام گل مکئی رکھا گیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی بچوں کی، خاص طور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے لگیں جس کی طالبان مخالفت کر رہے تھے۔ اسی جد و جہد اور کشمکش کے دوران ایک روز جب وہ اسکول سےگھر واپس جارہی تھیں، ان پر طالبان کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گيا۔ اکتوبر دو ہزار بارہ کو شدید زخمی ملالہ کو علاج کےلیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے ملالہ یوسف زئی کے خاندان کو برطانیہ منتقل کرنے میں ان کی مدد کی۔ بعد میں مغربی دنیا میں ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کو فروغ دینے کی کوششوں کافی سراہا گیا۔

کشمیر میں یہ فلم ڈل لیک، گل مرگ اور سون مرگ جیسے خوبصرت مقامات پر شوٹ کی گئی ہے۔ فلم کا پوسٹر خود ریم نے اپنے انسٹاگرام پر شیئر کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم رواں برس جون تک ریلیز کر دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس فلم میں مثبت پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے جس میں پاکستان کے کردار کی بھی ستائش ہے اسی لیے سرحد کے دونوں جانب کے حقوق انسانی کے علمبرداروں میں اس فلم کے حوالے سے کافی دلچسپی موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں