88

بندر پہلے انسان تھے یا انسان بندر؟

بندر پہلے انسان تھے یا انسان بندر؟ آپ کو شاید لگے کہ یہ سوال اتنا ہی فضول ہے جتنی کہ انڈے اور مرغی پر یہ بحث کہ پلے انڈا آیا تھا یا مرغی؟

انسان کے وجود میں آنے کے بارے میں دو بنیادی نظریے ہیں۔ ایک یہ کہ باقی مخلوق کی طرح اسے ایک غیبی طاقت نے تخلیق کیا، یہ نظریہ مختلف مذہبی عقائد کے ساتھ معمولی طور پر بدلتا رہتا ہے، اور دوسرا یہ کہ انسان ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے اس شکل میں پہنچا ہے جس میں وہ آج نظر آتا ہے۔ یہ نظریہ برطانوی سائنسدان چارلس ڈاروِن نے انیسویں صدی میں پیش کیا تھا۔

اب بھارت کے ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ انسان جیسا آج ہے ایسا ہی ہمشیہ سے تھا اور یسا ہی رہے گا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مسترد کرنے والے وزیر ستیہ پال سنگھ ہیں جو ممبئی کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں اور اب انسانی وسائل کے نائب وزیر ہیں، یعنی ملک میں تعلیم کی ذمہ داری بھی ان کے قلمدان میں شامل ہے۔

مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ ارتقا کی تھیوری سکولوں میں پڑھانا بند کر دی جانا چاہیے کیونکہ سائنس کی کسوٹی پر یہ سچ ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے آب و اجداد نے کبھی نہ تحریری طور پر اور نہ زبانی یہ نہیں کہا کہ انہوں نے کسی بندر کو انسان میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ نہ ہم نے کسی (پرانی) کتاب میں ایسا پڑھا ہے اور نہ اپنے بزرگوں سے کسی کہانی میں ایسا سنا ہے!

بھارتی اخبارات میں آج کئی کارٹون شائع ہوئے ہیں جن میں ایک تیسرا نظریہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ بھی صرف ایک تھیوری ہے اور وقت کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوگا کہ اس میں سائنس کے لحاظ سے کتنا دم ہے۔ اس کے مطابق بندر پہلے انسان تھے اور اب ارتقا کے عمل سے گزرتے ہوئے اس شکل میں پہنچ رہے ہیں جس میں ہمیں آج پیڑوں پر جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں!

یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ اگر آپ کسی انسان کو بندر کہہ دیں تو وہ برا مان جاتا ہے لیکن اگر آپ کسی بندر کو انسان کہیں تو، جہاں تک مجھے معلوم ہے، اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ بندر کو معلوم ہے کہ آگے چل کر اسے انسان بننا ہے، اس لیے اسے زیادہ برا نہیں لگتا، اور انسان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ بندر بننے والا ہے، اس لیے وہ برا مان جاتا ہے۔ یہ صرف ایک ابتدائی تھیوری ہے اور اسے کسی نصاب کی کتاب میں شامل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اچھی طرح سے سوچ سمجھ لیں کیونکہ کبھی کسی بندر کو انسان بنتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں ہے۔

بندر کو معلوم ہے کہ آگے چل کر اسے انسان بننا ہے، اس لیے اسے زیادہ برا نہیں لگتا، اور انسان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ بندر بننے والا ہے، اس لیے وہ برا مان جاتا ہے۔ یہ صرف ایک ابتدائی تھیوری ہے اور اسے کسی نصاب کی کتاب میں شامل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اچھی طرح سے سوچ سمجھ لیں کیونکہ کبھی کسی بندر کو انسان بنتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں ہے۔

برا نہ ماننے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بندروں میں برداشت کا مادہ کہیں زیادہ ہوتا ہو، وہ سوچتے ہوں گے کہ آپ کس کس کی زبان پکڑیں گے، لوگ تو کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہتے ہیں۔

ستیہ پال سنگھ کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو بات آپ نے خود نہ دیکھی ہو اس پر آسانی سے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ اور ان کا سوال دلچسپ ہے بھی۔ ذہن میں یہ سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ جس دن اتنے لاکھوں کروڑوں لوگ بندر سے انسان بن رہے تھے تو کوئی عینی شاہد کیوں موجود نہیں تھا؟ کسی نے سمارٹ فون پر ویڈیو کیوں نہیں بنائی؟ ظاہر ہے کہ یہ بہت غیرمعمولی بات ہوگی، اگر کوئی ویڈیو بنا لیتا تو منٹوں میں وائرل ہو جاتی!

انڈیا میں سائنسدانوں نے مسٹر سنگھ سے کہا ہے کہ وہ اپنا بیان واپس لے لیں، لیکن وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو ستیہ پال سنگھ کہہ رہے ہیں اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے، لیکن بات گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتی ہے کہ کیا ڈراون اور ان کی حمایت کرنے والے سائنسدانوں نے وہ دیکھا تھا جس کے ہونے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں؟

جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، سینیئر رہنماؤں نے بہت سے ایسے دعوے کیے ہیں، مثلاً انڈیا میں ہوائی جہاز کی ایجاد ہزاروں سال پہلے ہو گئی تھی، قدیم ہندوستان میں ڈاکٹروں کو پلاسٹک سرجری میں مہارت حاصل تھی (خود وزیر اعظم نریندر مودی)، نیوٹن سے ایک ہزار سال پہلے ایک ہندوستانی نے کشش ثقل کا اصول سمجھ لیا تھا۔۔۔ یہ فہرست لمبی ہے۔ کچھ نئی تاریخ لکھی جارہی ہے اور کچھ نئی سائنس۔

ٹوئٹر پر بہت سے لوگ اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں، فلم ساز فرحان اختر کا کہنا ہے کہ ڈارون کے نظریہ ارتقا کے خلاف بندر بھی احتجاج کر رہے ہیں، ان کا دعوی ہے کہ کچھ انسانوں کے ارتقا میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ ایک شخص (بھیشیک جوشی) نے لکھا ہے کہ ہم نے بھی ملک میں ترقی ہوتے ہوئے نہیں دیکھی تو کیا ہم وزیر اعظم کے ترقی (وکاس) کے دعوؤں کو جھوٹ مان لیں!

سر، ذرا انتظار۔ ارتقا کے لیے تو کبھی کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ ساڑھے تین سال ہوگئے اور ابھی بھی جسم پر بال باقی ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں