58

پاکستانی علماء کا خودکش حملوں کے خلاف متفقہ فتویٰ

اٹھارہ سو سے زائد پاکستانی مذہبی علما نے اپنے ایک متفقہ فتوے میں خودکش حملوں کو ناجائز اور غیراسلامی قرار دیتے ہوئے ’حرام‘ قرار دیا ہے۔ یہ متفقہ فتویٰ پاکستانی صدر ممنون حسین کی جانب سے کتابی صورت میں جاری کر دیا گیا ہے۔

ملک کے 18 سو سے زائد مذہبی رہنماؤں کی جانب سے خودکش حملوں کی مذمت پر مبنی ایک متفقہ فتویٰ کتاب کی صورت میں جاری کیا گیا ہے۔ اس فتوے میں خودکش حملوں کو ’حرام‘ اور غیراسلامی قرار دیتے ہوئے شدت پسندوں کو حملوں سے باز رہنے کا کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ طویل عرصے سے دہشت گردانہ حملوں کی زد میں ہے، جس میں زیادہ تر واقعات ان خودکش حملوں کے ہیں، جو مختلف عسکریت پسند اور فرقہ ورانہ گروپوں کی جانب سے ’جہاد‘ قرار دے کر کیے جاتے رہے ہیں۔ عسکریت پسند گروہ خودکش حملوں کو ایک ’موثر ہتھیار‘ قرار دیتے ہیں۔ سن 2000 سے جاری ان خودکش حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

کتابی صورت میں اس مشترکہ فتوے کے اجرا کی تقریب میں پاکستانی صدر ممنون حسین کا کہنا تھا، ’’یہ فتویٰ ملک میں اعتدال پسند اور مسحتکم معاشرے کے قیام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرےگا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اسلام کے سنہری اصولوں اور اس فتوے کو ہدایت کے لیے سامنے رکھ سکتے ہیں اور ایک قومی مکالمت شروع کر سکتے ہیں۔‘‘

فتویٰ دینے والوں میں محمد احمد لدھیانوی، اورنگ زیب فاروقی اور حامد الحق شامل ہیں۔ حامد الحق ہی کے والد اس مدرسے کے سرپرست تھے، جہاں افغان طالبان کے بانی اور سربراہ ملا عمر نے مذہبی تعلیم حاصل کی تھی۔

اس حوالے سے جامعہ بنوریہ کے سربراہ مفتی محمد نعیم نے کہا کہ یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ ملک کے تمام تر مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی طرح کے مکاتب فکر موجود ہیں اور اس معاملے پر باہمی اختلافات کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک علما کا اس بات پر اتفاق نہیں ہو پایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ ملک سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہو اور اسی وجہ سے پاکستان سے عسکریت پسندی کا خاتمہ اب تک نہیں ہو پایا۔

مفتی نعیم نے اس سوال پر کہ آیا یہ فتوی عسکریت پسند گروپوں کو ایسے حملوں سے باز رکھنے میں معاون ثابت ہو گا، کہنا تھا کہ پولیو کی مہم کے حوالے سے بھی جب پاکستانی علما نے فیصلہ کر لیا، تو پھر ملک کی ہر مسجد اور منبر سے لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے کہا گیا، ’’اسی وجہ سے ملک سے پولیو کی وبا کا نناوے فیصد تک خاتمہ ہوا۔ ’’ظاہر ہے کہ علما فقط فتویٰ ہی دے سکتے ہیں باقی کام ریاست کا ہے۔ اگر ریاست اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھاتی ہے، تو یقیناﹰ یہ فتویٰ نہایت معاون ثابت ہو گا۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں