98

گمشدگی کیس: وزیراعظم اور سیکرٹری دفاع کو سزا دی جائے: عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی ٹی ماہر ساجد محمود کی گمشدگی کے کیس میں قرار دیا ہے کہ ایک ایس ایچ او کو ذمہ دار قرار دے کر معمولی سزا دیدی گئی ہے، کیوں نہ اس معاملہ میں ایس ایچ او کے بجائے وزیر اعظم، سیکرٹری دفاع اور آئی جی کو سزا دی جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے آئی ٹی ماہر ساجد محمود کی اہلیہ مائرہ ساجد کی جانب سے شوہر کی بازیابی کیلئے دائر درکواست پر سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد محمود راجہ، ڈی ایس پی لیگل اظہر شاہ، ایس ایچ او تھانہ شالیمار منیر جعفری اور تفتیشی افسر عالمگیر خان عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دئیے کہ جب آئی جی پولیس پر ہر لاپتہ ہونیوالے شخص کی ذمہ داری ڈالی جائیگی تو نظام خود بخود ٹھیک ہوجائیگا۔

اگر آئی جی کو معلوم ہو کہ اس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا تو وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیگا۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ ملک میں کتنی انٹیلی جنس ایجنسیز ہیں؟ حکومت جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ ساجد محمود کو ریاستی ادارے نے اغوا کیا۔ کیا عدالت فیصلہ میں لکھے کہ یہ ایجنسیز کی ناکامی ہے، 3 ماہ تک ساجد محمود کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر ننہیں درج ہوئی، کیا ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں؟ عدالت لاپتہ افرادکو ڈھونڈ نہیں سکتی، عدالتوں کا کام تعین کرنا ہوتا ہے کہ کس کی ذمہ داری ہے، یہ آئی جی کی نااہلی ہے کہ اس کو پتہ نہیں اسکے نیچے ایس ایچ او کیا کررہا ہے۔

خدانخواستہ آئی جی کے بچے کو کچھ ہوجاتا ہے تو کیا وہ ایسے ہی بیٹھے رہیں گے؟ کیوں نہ چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی سے انکے گھر کے اخراجات وصول کئے جائیں۔ آئندہ سماعت آخری ہوگی، عدالت اس کیس کو مزید لمبا نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں