113

دودھ کی پیداوار کے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں دودھ کی پیداوارکے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے لاہور رجسٹری میں ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی درآمد پر پابندی کا حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی۔ سپریم کورٹ نے بھینسوں کو زائد دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والے آر وی ایس ٹی نامی ٹیکوں کی فروخت پر بھی پابندی عائد کرتے ہوئے کمپنیوں کا تمام اسٹاک فوری قبضے میں لینے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں دودھ کی پیداواربڑھانے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے انجیکشن سے کینسر جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں، بچے اور بڑے سبھی کینسر زدہ دودھ پینے پر مجبور ہیں، ہماری بچیاں وقت سے پہلے ہی بوڑھی ہورہی ہیں۔

چیف جسٹس نے دودھ بیچنے والی کمپنیوں سے استفسار کیا کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اورمضرِصحت ہیں، ڈبہ پیک دودھ میں فارمولین کیمیکل موجود ہے جو کہ انسانی صحت کےلیے انتہائی خطرناک ہے، بتائیں کیا ٹی وائٹنردودھ کا متبادل ہے، جس پر ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ ٹی وائٹنر دودھ کا متبادل ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ دودھ کے ڈبے کی تبدیلی کتنے عرصے میں کردیں گے، ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب میں چارماہ کا وقت مانگا تو چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ماہ کا عرصہ بہت زیادہ ہے ایک ماہ میں ڈبہ تبدیل کریں اوراس لکھیں کہ یہ دودھ نہیں ہے، جتنا پرانا اسٹاک ہے اسے ضائع کردیں۔ کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان میں فروخت ہونے والے ڈبہ پیک دودھ اور کھانے پینے کی اشیا پر تحقیق کی گئی، جس کے مطابق پاکستان میں ڈبا پیک دودھ اور کھانے میں کیمیکل فارمولین پایا جاتا ہے، جو ایک کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ دودھ حاصل کرنے کی لالچ میں بھینسوں کو بوسٹن اور آکسی ٹاکسن نامی انجکشن لگا ئے جاتے ہیں، جن سے بھینسوں کو کینسر ہو رہا ہے اور بچے انہی بھینسوں کا دودھپیتے ہیں۔زیادہ دودھ کے لالچ میں بھینسوں کو ایسے انجکشن لگائے جا رہے ہیں جن سے انہیں کینسر کا مرض لاحق ہو رہا ہے ،بھینسیں کینسر سے مر بھی رہی ہیں اور کینسر زدہ بھینسوں کا دودھ فروخت کیا جا رہا ہے جو زیادہ تر بچوں کو پلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ انکشافات سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان اور ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک پنجاب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں کیے۔سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ڈاکٹر اسلم افغانی نے بتایا جانوروں کی بہت سی غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ادویات ملکی مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان پر پابندی لگانی چاہیے۔

ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک پنجاب نے کہا ڈبہ بند دودھ اور کھانا مضر صحت ہونے سے متعلق متعدد بار لکھ کر دے چکے ہیں، بوسٹن انجکشن کی رجسٹریشن ہی مجرمانہ فعل ہے اور اس پر باقی صوبوں نے پابندی لگا دی مگر سندھ نے حکم امتناع لے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس والے ممالک سے گوشت آتا ہے پکڑا جاتا ہے لیکن پھر استعمال بھی ہوتا ہے۔ڈائریکٹر سندھ لائیو اسٹاک نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اختیارات نہیں ملے، صوبے میں ویٹرنری لیبارٹری ہے نہ سہولیات۔ڈی جی لائیو اسٹاک بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان سے بڑے پیمانے پر جانور ایران اسمگل ہو رہا ہے، ایران پاکستانی جانوروں کا گوشت ایرانی گوشت کے نام پر عالمی منڈیوں میں فروخت کر رہا ہیجبکہ پاکستان اس زر مبادلہ سے محروم ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں