130

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں

کہتے ہیں کہ عادات، اخلاق اور طرز عمل خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک کہانی عرض ہے۔

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لئےحاضر ہوا، قابلیت پوچھی گئ، کہا سیاسی ہوں ۔ (عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ہیں)۔ بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی، اسے خاص ” گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج ” بنا لیا گیا، جو حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ چند دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا “نسلی نہیں ہے”۔ بادشاہ کو تعجب ہوا اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا، اس نے بتایا، “گھوڑا نسلی ہے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ہے۔”

مسئول کو بلایا گیا۔ “تم کو کیسے پتا چلا کہ گھوڑا نسلی نہیں ہے؟” اس نے کہا، “جب یہ گھاس کھاتا ہےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ہے۔”

بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ہوا اور اس کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی ٰ گوشت بطور انعام بھجوایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا۔

چند دنوں بعد بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی۔ اس نے کہا، “طور و اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن شہزادی نہیں ہے۔” بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے فوراً ساس کو بلا بھیجا۔ معاملہ اس کے گوش گزار کیا۔ ساس نے تصدیق کر دی۔ اس نے کہا کہ “حقیقت یہ ہے تمہارے باپ نے میرے خاوند سے ہماری بیٹی کی پیدائش پر ہی رشتہ مانگ لیا تھا لیکن ہماری بیٹی 6 ماہ کی عمر میں ہی فوت ہو گئ تھی۔ چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا۔” بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا کہ اسے ملکہ کے شہزادی نہ ہونے کا کیسے علم ہوا تو اس نے کہا کہ “ملکہ کا خادموں کے ساتھ سلوک جاہلوں سے بھی بدتر ہے۔ شہزادیاں ایسے سلوک نہیں کیا کرتیں۔”

بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ہوا۔ ایک بار پھر سے بہت سا اناج اور بھیڑ بکریاں اسے بطور انعام دیں اور اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا۔ کچھ وقت گزرا تو مصاحب کو پھر بلا بھیجا اور اپنے بارے میں دریافت کیا۔ مصاحب نے کہا، “جان کی امان کا وعدہ دیجئیے۔” بادشاہ نے وعدہ کیا تو مصاحب بولا ،

“نہ تو تم بادشاہ زادے ہو اور نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ہے”

بادشاہ کو تاؤ آیا مگر جان کی امان دے چکا تھا۔ سیدھا والدہ کے محل پہنچا، والدہ نے کہا “یہ سچ ہے۔ تم ایک چرواہے کے بیٹے ہو۔ ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا تھا۔”

بادشاہ نے مصاحب کو بلایا اور پوچھا کہ اسے کیسے معلوم ہوا۔ اس نے کہا کہ “بادشاہ جب کسی کو انعام و اکرام دیا کرتے ہیں تو ہیرے، موتی اور جواہرات کی شکل میں دیتے ہیں لیکن آپ بھیڑ ، بکریاں اور دیگر کھانے کی چیزیں عنایت کرتے ہیں۔ یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں ہوتا،بلکہ کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہو سکتا ہے۔”

آج ہماری سیاست میں جس طرح کی زبان بلکہ یوں کہوں کہ گندی زبان استعمال کی جارہی ہے میں اس بات پر حیران ہوں کہ اس ملک کے ادیب،دانشور اور اور وہ لوگ جو اس ملک میں ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں وہ خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ کیسے برداشت کررہے ہیں ؟

آخر کیوں ہماری عادتیں اور اخلاق اس قدر گراوٹ کا شکار ہے کہ ہماری حرکتیں اس بات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں؟ افسوس کہ آج کل کے اس نام نہاد معاشرے میں نہ ہمیں اپنے اخلاق کا پاس ہے ورنہ اپنی آنے والی نسلوں کی فکر۔ ہم اس بات سے قطع نظرکہ ہمارے منہ سے نکلے الفاظ دوسروں کو ہمارے خاندان اور نسل کا بتاتے ہیں، ہم بس اس بات پر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ الفاظ کچھ بھی ہو بس ہماری بات سنی جائے چاہے تعمیری ہو یا تخریبی۔

ہماری سیاست میں اب یہ معمول بن چکا ہے کے سامنے والے کو اپنا گرویدہ کرنے کے بجائے اس کی پگڑیاں اچھالی جائے۔ اس کو بھرے پنڈال میں یہ کہا جائے ہے اس کی شکل دیکھو ڈاکو لگتا ہے ،اس کے بچے دیکھو کدو جیسے ۔آخری یہ کون سی ایسی زبان ہے جو ہمیں ہماری نسلوں کا پتہ دیتی ہے؟

تحریر: سید شرجیل احمد قریشی

اپنا تبصرہ بھیجیں