128

ناقص عدالتی نظام اور تاریخ پر تاریخ دینے والا جج

پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک طرف ناقص تفتیش اور کمزور شہادتیں عدل کی راہ میں حائل ہیں تو دوسری جانب طویل یا سست عدالتی عمل انصاف کی تیز رفتار فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

عام آدمی کے مقدمات برسوں عدالت میں چلتے رہتے ہیں اور وہ انصاف کیلئے انتظار کی سولی پر لٹکا رہتا ہے۔پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا ہ کا دور دراز گائوں ہو یا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، انصاف کے لیے عدالت کا در کھٹکھٹانے والے اپنی عمر کی پونجی ایسے ہی گنوا دیتے ہیں۔مدعی مر جاتا ہے مگر مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ ملک کی عام عدالتوں میں 17 لاکھ سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں جبکہ خصوصی عدالتوں میں مزید دو لاکھ مقدمات بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ایک مقدمے کا فیصلہ آنے میں اوسطا پندرہ سے بیس سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

ماہرین قانون کہتے ہیں کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں بے شمار سقم ہیں، انگریز دور میں بنے ان قوانین کے طویل ضابطے اور ان کی جدید دور سے عدم مطابقت، جبکہ نظام عدل میں احتساب نہ ہونا بھی انصاف کی فراہمی میں حائل ہے۔ان قوانین اور ضابطوں کی تبدیلی کیلئے عدالتی نظام میں اصلاح کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔

سوال یہ ہے کہ ناانصافی کا ذمہ دار کون ہے؟ تاریخ پر تاریخ دینے والا جج، تاریخیں مانگنے والا وکیل، تفتیش پوری نہ کرنے والی پولیس یا حیلے بہانے کرنے والے افسران؟

ماہرین ِ قانون سمجھتے ہیں کہ یہ ذمہ درای عدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔قوانین اور ضابطہ کار میں تبدیلی اور ترامیم لانی ہیں تو یہ سب عدلیہ ہی کے ہاتھ میں ہے، عدالتی نظام کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری عدلیہ ہی کے پاس ہے۔دوسری جانب بعض ماہرین اس کا ذمہ دار پارلیمان اور قانون ساز اداروں کو سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات صرف سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان یا عدلیہ کے لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہمارے قوانین میں تبدیلیاں اور ترامیم پارلیمان نے کرنی ہیں، ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں چیف جسٹس، وزیر اعظم، بار ایسوسی ایشنز وغیرہ شامل ہوں اور وہ سنجیدگی سے اس معاملے پر کام کریں۔

تاہم عدالتی نظام میں اصلاحات ایک طویل اور پیچیدہ عمل بن چکی ہیں اور مستقبل قریب میں بھی ان میں کوئی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انصاف کی جلد فراہمی کے لیے کسی بھی مقدمے کے فریق، پولیس اور وکیل تہیہ کر لیں کہ وہ مقدمات میں غیر ضروری طوالت سے گریز کریں گے، تو اس سنگین صورتحال پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں