144

دھرنا ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب کرلی گئی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صورتحال کشیدہ!!! مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرانے کے لئے فوج طلب کر لی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز فیض آباد دھرنے پر کریک ڈاون کے آغاز کے بعد سے دن بھر صورتحال کشیدہ رہی۔ صورتحال کشیدہ رہنے کے بعداسلام آباد میں فوج طلب کر لی گئی۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں فوج کی طلبی و تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے فیض آباد میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد ایک بیان میں اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے بیان پر ماہرین کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے ہی اس معاملے میں دلچسپی دکھانی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ فیض آباد میں پولیس کی کارروائی شروع ہونے کے کئی گھنٹے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد کارروائیاں کسی طور پر بھی ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت گذشتہ 19 دن سے پرامن حل کی کوشش کر رہی تھی اور اگر معاملہ بات چیت سے حل نہیں ہوتا تو کیا کیا جاتا؟ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے پرامن حل کی بات کی ہے’تو وزیراعظم کو جنرل باجوہ سے یہ بھی پوچھ لینا چاہیے تھا کہ آپ بتائیں کیا کریں‘۔

یاد رہے کہ اگست 2014 میں اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر جب عمران خان اور طاہر القادری نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا تو جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، اس پر بھی فوج نے فریقین پر زور دیا تھا کہ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کریں اور آج بھی جب حکومت نے کارروائی شروع کی تو اس کے کئی گھنٹوں بعد فوج کی جانب سے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں