89

پاکستان میں بلیک فرائیڈ کی مخالفت کیوں؟

بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طورپر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہو جاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔

نومبر کے چوتھے جمعے کو امریکہ میں بلیک فرائی ڈے کہا جاتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں آپ اسے کالا جمعہ کہہ سکتے ہیں۔ کالا اس لیے کہ لوگ نصف شب ہی اسٹوروں کے سامنے قطار بنا کرکھڑے ہو جاتے ہیں اور اسٹور کھلنے کاانتظار کرنے لگتے ہیں تاکہ اپنی پسند کی چیزاس قیمت پر حاصل کرسکیں جو انہیں سال بھر دوبارہ شاید پھر اس قیمت پر نہ ملے۔

معاشی ماہرین بلیک فرائی ڈے یا کالے جمعے کی یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ یہ سال کا وہ دن ہے جب تاجروں کے کھاتے کالی سیاسی روشنائی سے لکھے جاتے ہیں۔ اکاؤنٹس کے شعبے میں، جب کاروباری کھاتے ہاتھ سے لکھنے کا رواج تھا (پاکستان اور اکثر ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ تر کھاتے اب بھی منشی ہاتھ سے ہی لکھتے ہیں)، منافع کا اندراج کالی روشنائی سے جب کہ نقصان کو سرخ رنگ سے لکھا جاتا تھا۔

بلیک فرائی ڈے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ تاریخ دان اس کی کڑیاں 1924ء سے جوڑتے ہیں جب امریکہ میں گھریلو ضرورت کی مصنوعات فروخت کرنے والی اسٹوروں کی ایک بڑی چین’’مے سی‘‘ نے تھینکس گوونگ کے موقع پر نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا آغاز کیاتھا۔ یہ پریڈ تب سے ہر سال بڑے جوش و خروش ہوتی ہے، جسے لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر اور کروڑوں اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں۔ اسی دوران کسی موقع پر’’ مے سی‘‘نے پریڈ کا اگلے دن، یعنی جمعے پر بڑے پیمانے کی سیل کا اعلان کیا۔ اکثر اس سے متفق ہیں کہ یہی بلیک فرائی ڈے کا آغاز تھا اور پھر بھلا پیسہ کمانے کی دوڑ میں دوسرے اسٹور اور تاجر بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے، چنانچہ چند ہی برسوں میں تھینکس گوونگ کے بعد کا جمعہ امریکہ میں ارزاں نرخوں پر چیزوں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا دن بن گیا۔

بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طور پر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہو جاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ کیونکہ اکثر لوگوں کو نئے سال کے تحفے تحائف کی خریداری بھی کرنی ہوتی ہے۔ سیل کا یہ سلسلہ یکم جنوری گذرنے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد دکاندار ان بچی کچی چیزوں کو اونے پونے داموں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں وہ کرسمس اور سال نو کی سیل میں بیچ نہیں سکے تھے۔

جنوری گذرنے کے ساتھ ہی بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اسٹوروں میں سیل کے دنوں میں بھرتی کیے جانے اضافی ملازموں کو فارغ کردیاجاتا ہے اور لوگ بھی اپنی خریداریوں کو سامنے رکھ کر جمع تفریق کرکے آنے والے مہینوں میں بچت کے منصوبے بنانے لگے ہیں اور پھر گویا امریکہ میں زندگی اپنے معمول پر آجاتی ہے۔

پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، یہاں جمعہ کے دن کو بلیک کہنا اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے،، اس دن کی مخالفت میں احتجاج کئے جاتے ہیں جبکہ دن پر پابندی کے لئے عدالتوں کا بھی رخ کیا جاتا ہے.

اسلامی ملک میں جمعہ کالا نہيں ہو سکتا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایوان میں بليک فرائي ڈے منانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بليک فرائيڈے کے خلاف اسمبلي سے واک آوٹ کیا۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی محمودالرشید نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ جمعہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ حکومت بلیک فرائیڈے پر پابندی لگائے اور اسے منانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ محمود الرشید نے کہا کہ جب تک حکومت شہر بھر میں لگے بلیک فرائیڈے کے بینرز نہیں اتار لیتی وہ اور ان کی جماعت ایوان کا اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔

‘پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، شہر میں کوئی بھی شخص بلیک فرائیڈے کے نام پر کوئی بھی سرگرمی کرتا ہے، پولیس فوری اسے گرفتار کرتے اور اسے مجرم سجھ کر قرار واقعی سزا دے’۔

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بہت سے ملبوسات بنانے والے برانڈز نے بلیک فرئیڈے کی سیل کو وائٹ فرائیڈے سیل، بلیسڈ فرائیڈے سیل اور گولڈن فرئیڈے سیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

پاکستان ميں پہلي مرتبہ بليک فرائي ڈے سيل کو وائٹ فرائي سيل ميں 2014 ميں ايک نجي آن کمپني کي جانب سے تبديل کيا گيا تھا۔ جس کے بعد يہ سلسلہ چل نکلا ہے۔ بلیک فرائیڈے سیل پر مختلف کمپنیاں اپنا مال تیس فیصد سے ستر فیصد پر نسبتاً کم نرخوں پر فروخت کرتی ہیں۔

بلیک فرائی ڈے امریکہ کا سب سے بڑا سیل ایونٹ ہے۔ امریکہ میں نومبر کی چوتھی جمعرات کو تھینکس گوونگ یعنی شکرانے کے دن کا قومی تہوار منایا جاتا ہے۔ اس سے اگلے روز یعنی جمعے کو کارورباری کمپنیاں تھینکس گوونگ کی خوشی میں انتہائی کم نرخوں پر اپنی چیزیں فروخت کرتی ہیں۔ اس دن سے کرسمس کی خریداریوں کے موسم کا آغاز ہو جاتا ہے۔

امریکہ میں بلیک فرائی کا تعلق کاروباری اصطلاح سے ہے۔ کاروباری افراد بہی کھاتے میں اپنا منافع کالے قلم سے اور نقصان سرخ قلم سے لکھتے ہیں ۔ تھینکس گوونگ سے اگلے دن کو بلیک فرائی ڈے اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر فروخت کی وجہ سے کاروباری افراد کو بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں