91

قرۃالعین بلوچ نے عمران خان کو گالی کیوں دی؟

سوشل میڈیا پر عمران خان یا پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف عمومی بات کر کے ٹرولنگ سے بچنا محال ہے ایسے میں پاکستانی گلوکارہ قرۃالعین بلوچ کا ایک ٹویٹ انھیں ان کمنٹس کی زد میں لے آیا ہے جنھیں پڑھنا ان کے یا خواتین کے حقوق کی علمبردار کسی بھی خاتون کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔

ملک میں اور بیرونِ ملک گلوکاری کی دنیا میں خاصا نام کمانے والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ نے جو QB کے نام سے مشہور ہیں گذشتہ روز ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر مہذب الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس ٹویٹ کی وجہ بنی وہ ڈیجیٹل ویڈیو جو عائشہ گلالئی کے عمران خان پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں تھی۔ اس ویڈیو کے بارے میں کی گئی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے عمران خان کے بارے میں اپنے خیال کا اظہار نامناسب الفاظ میں کیا۔

اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر پر ٹرولنگ کا وہی سلسلہ شروع ہوگیا جس کا شکار عمران خان پر تنقید کرنے والے ٹی وی کے کئی پاکستانی اینکرز ہو چکے ہیں جن میں بہت ساری خواتین بھی شامل ہیں۔ کیو بی کو اس سے بھی بُرے القابات سے نوازا جانے لگا جو خود انھوں نے عمران خان کے لیے استعمال کیے تھے۔

شیخ وجاہت بحث میں سب سے پہلے کودے اور کیو بی کو آنے والے کمنٹس کے بارے میں خبردار کیا جس پر انھیں جواب ملا کہ ”آنے دو ایسے کمنٹس کا سامنا خواتین کو روزآنہ کرنا پڑتا ہے۔ ‘

پھر تو جیسے سب کو لائسنس ہی مل گیا، کسی نے قرۃ العین کے کردار پر رکیک حملے کیے، کسی نے اصول کی کتاب کھولی اورکسی نے تنقید کی کہ جو الفاظ کیو بی نے کسی مرد کے لیے استعمال کیے ہیں اگر وہی کوئی مرد کسی عورت کے لیے استعمال کرے تو کتنا ‘ہنگامہ’ ہو؟
پاکستانی کرکٹر اسامہ میر جو پہلے کیو بی کے فین تھے اس ٹویٹ کے بعد ان کی نظر میں کیوبی کی ساری عزت ختم ہوگئی۔

پی ٹی آئی کے حامیوں نے تو اپیل کر ڈالی کہ ‘گائز’ اس بد تمیزی کے بارے میں سب مل کر ٹوئٹر سے شکایت کریں۔ عائشہ عمرا نے طنز کرتے ہوئے کیو بی کی ٹویٹ سے اتفاق کیا اور لکھا کہ ‘جس نے اپنی زندگی فلاح کے کاموں میں لگائی وہ ایسے ہی کمنٹس کا حق دار ہے۔‘

حال ہی میں اختلافات کی بنیاد پر ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے رہنما سید علی رضا عابدی نے غالباً پرانے معاملے پر دیر سے ٹویٹ کرنے پر کیو بی پر ہی طنز کیا اور لکھا کہ ‘کیا آپ کا صابن سلو ہے’۔

کمنٹس کے طویل سلسلے میں ایک بات جو قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ لوگوں نے نہ صرف لکھ کر بلکہ تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں بھی اپنی خوب بھڑاس نکالی۔

اس کے علاوہ کیو بی کا موازنہ سوشل میڈیا سلیبریٹی قندیل بلوچ سے بھی کیا گیا جو دراصل عمران خان کے بارے میں ٹویٹ کرنے سے ہی مشہور ہوئی تھیں۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سمجھتے ہیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی سے ہر ایک کی اصل شخصیت سامنے آ جاتی ہے. سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور ایک غیر سرکاری تنظیم بولو بھی کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز نے اس ٹویٹ کے بارے میں کہا کہ ‘سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی ہر ایک کو حاصل ہے اور ٹویٹ میں کیو بی کی ذاتی رائے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹویٹ میں غلط الفاظ کا استعمال کرنے پر جو کمنٹس آتے ہیں وہ کتنے مہذب ہوتے ہیں۔ اگر وہ ٹویٹ کے الفاظ سے گئے گزرے ہیں تو پھر کیا اخلاقی جواز بنتا ہے؟’

فریحہ عزیز کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ‘مینرازم’ یا تمیز داری کی کوششیں تو جاری ہیں لیکن اس کو اختیار نہ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جو فرد جس شخصیت کا حامل ہے وہ ‘ایکسپوز’ ہو کر سامنے آجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں