88

‘پاکستان کی عدلیہ کا دہرا معیار’

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے۔ ہمارے لیے کچھ اور، اور دوسروں کے لیے کچھ اور معیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نواز شریف نے ایک بار عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چین سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ ’میں خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کی بات کر رہا ہوں، دھرنوں کا سلسلہ 2014 سے چل رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے کچھ اور، اور ان کے لیے کچھ اور معیار ہے۔ اصول ایک جیسے ہونے چاہیئیں۔ ہمارے لیے فیصلے جلد آتے ہیں، ان کے لیے نہ جانے کب آنے ہیں؟

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے۔ ’سیسلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے الفاظ فیصلوں میں لکھے گئے، یہ سب عدلیہ کو زیب نہیں دیتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے باوجود ملک نے ترقی کی۔ بجلی آئی، بے روزگاری ختم ہوئی، جی ڈی پی ریٹ کہاں پہنچ گیا۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، ہم نے جو کام کیے پورا پاکستان تسلیم کر رہا ہے۔ ’تاہم عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے معیشت پر ضرب پڑی‘۔

انہوں نے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک سرکاری گاڑیوں میں جلوس کے ساتھ دھرنے میں پہنچتے رہے۔ عمران خان، جہانگیر ترین اور علیم خان کے کرپشن اسکینڈل سامنے آئے۔

بعد ازاں پیشی سے واپسی پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف جمہوریت سے ہی ترقی کر سکتا ہے۔ پارلیمنٹ اب آمروں کو تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی سے گلہ ہے کہ انہوں نے آمریت کے کالے قانون کی حمایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں