Home / پاکستان / اسلام آباد / اعظم طارق قتل کیس: ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد

اعظم طارق قتل کیس: ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد

اسلام آباد: (17 نومبر 2017) کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ اعظم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے اعظم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد کردی ہے. فردجرم انسداد دہشتگردی عدالت کےجج شاہ رخ ارجمند نے پڑھ کر سنائی. فرد جرم میں کہا گیا کہ اعظم طارق کیس میں آپ مرکزی ملزم ہیں، اعظم طارق کےقتل کی سازش میں آپ پرفردجرم عائد کی جاتی ہے. تاہم فرد جرم عائد ہونے کے بعد ملزم سبطین کاظمی نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ سبطین کاظمی کے خلاف 2 گواہان عمران اور امتیاز نے اپنا ریکارڈ کرادیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی گئی.

واضح رہے کہ ملزم سبطین کاظمی کو 14 سال بعد مئی 2017 میں اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لندن جارہے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اعظم طارق کو اکتوبر 2003ء میں اسلام آباد کی حدود میں کشمیر ہائی وے پر اس وقت قتل کیا گیا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جھنگ سے پارلیمنٹ ہاؤس جارہے تھے۔

اس سے قبل اس کیس میں سال 2004 میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے اعظم طارق قتل کیس میں علامہ ساجد نقوی کو دو ساتھیوں سمیت باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ عدالت کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف استغاثہ ٹھوس شہادتیں پیش نہیں کرسکا تھا۔

کالعدم مذہبی جماعت سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق کو اکتوبر 2003 میں اسلام آباد میں چار محافظوں سمیت اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے تھے۔

مقدمے کے مطابق قتل کے منصوبہ ساز علامہ ساجد نقوی، نواب امان اللہ سیال اور سبطین نقوی کو قرار دیا گیا تھا جبکہ قتل کرنے والوں کے طور پر حسین شاہ کاظمی اور رضوان علی کو نامزد کیا گیا تھا۔

سبطین نقوی اور رضوان علی مفرور رہے لیکن علامہ نقوی، نواب امان اللہ سیال اور حسن شاہ کو نومبر 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ بعد ازاں علامہ نقوی اور سیال ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ حکومت نے علامہ ساجد نقوی کی جماعت تحریک اسلامی پاکستان اور سنی مسلک کے مولانا اعظم طارق کی جماعت ’سپاہ صحابہ پاکستان‘ کو حکومت پُر تشدد فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام کی بنا پر کا لعدم قرار دے دیا تھا اور دونوں نے بعد میں دیگر ناموں سے جماعتیں بنائیں۔

اعظم طارق صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے آزاد حیثیت میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں وہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوگئے تھے۔ نواب امان اللہ خان سیال ان کے سیاسی حریف تھے۔

Check Also

انتخابات کے بعد پاکستان کے پانچ بڑے مسائل

پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *