121

نئی حلقہ بندیوں کا ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

اسلام آباد: نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم کا بل اور انتخابات ترمیمی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جنہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے لیے پیش کیے جانے والے ’’انتخابات ترمیمی بل 2017‘‘ کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ اصل شکل میں بحال ہوگیا جس کے بعد قادیانی، احمدی اور لاہوری گروپ کا آئین میں درج اسٹیٹس برقرار رہے گا۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شرکت کی جبکہ مذکورہ دونوں بل وزیرقانون زاہد حامد نے ایوان کے سامنے پیش کیے۔

انتخابات ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ وہ دو حج اور کئی عمرے کرچکے ہیں اور ختم نبوت پر ان کا خاندان بھی قربان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ اتفاق ہوا کہ انتخابات ترمیمی بل 2017 کے ذریعے ختم نبوت سے متعلق قانون کے آرٹیکل 7سی اور 7 بی کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

انتخابات ترمیمی بل 2017 کے نکات کے مطابق احمدیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی، ختم نبوت پرایمان نہ رکھنے والےکی حیثیت آئین میں پہلے سے درج والی ہوگی، ووٹرلسٹ میں درج کسی نام پرسوال اٹھے تو اسے15 دن کے اندر طلب کیا جائیگا، متعلقہ فرد اقرارنامے پر دستخط کرے گا کہ وہ ختم نبوت پرایمان رکھتا ہے، متعلقہ فرد اقرار نامے پر دستخط سے انکار کرے تو غیرمسلم تصور ہوگا اور ایسے فرد کا نام ووٹرلسٹ سے ہٹا کرضمنی فہرست میں بطورغیرمسلم لکھاجائیگا۔

اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات اسمبلی میں رکھی جائیں اور بتایا جائے کہ غلطی کہاں اور کس سے ہوئی۔ شیخ رشید نے کہا کہ کسی نے وزیر قانون زاہد حامد سے نہیں کہا کہ اپنی صفائی میں بیان دیں۔

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا بل

علاوہ ازیں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس کی حمایت میں 242 ارکان جبکہ مخالفت میں صرف ایک رکن جمشید دستی نے ووٹ دیا۔

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کے بل اور انتخابات ترمیمی بل 2017 کو اب منظوری کے لیے سینیٹ بھیجا جائے گا۔

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر عوامی راج پارٹی کے رکن اسمبلی جمشید دستی نے بل کی مخالفت کی اور اس بل کے اغراض و مقاصد پر سوال اٹھایا۔

بل کی دوتہائی اکثریت سے منظوری کے بعد جمشید دستی نے کہا کہ وہ اس بل کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔

بل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی ہو اتھا جس میں اکثر جماعتوں نے بل کی حمایت پر اتفاق کیا تھا تاہم ایم کیو ایم کی جانب سے کچھ تحفظات ظاہر کیے گئے تھے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی کے 10 بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ کیا تھا جس پر مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے تجویز دی تھی کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس دوبارہ بلایا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ مردم شماری کے نتائج سامنے آنے کے بعد سندھ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے خدشات سامنے آئے تھے۔ نئی حلقہ بندیاں ان ہی نتائج کے حساب سے بنائی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں