80

فاروق ستار نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ واپس لے لیا

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کرنے کی کچھ دیر بعد اسے واپس لے لیا۔

کراچی کے علاقے پی آئی بی میں کچھ دیر کے فرق سے اپنی دوسری پریس کانفرنس انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ کی جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے فاروق ستار کو اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے منایا جبکہ پارٹی رہنما عامر خان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ 35 سال کی عزت خاک میں مل جائے تو ایسی سربراہی قبول نہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ اگر غیر نیت پر شک کریں تو کریں لیکن اگر اپنے کریں گے تو پھر سوال کرنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا میں پاکستان کی چوتھی بڑی جماعت چلانے کا اہل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں نے انہیں منایا، کنور نوید روئے، کشور باجی روئیں، والدہ روئیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور 200 کے قریب ان کے دفاتر واپس کیے جائیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ عمران فاروق کے والدین کی ان کے پاس کال آئی جنہوں نے ان سے کہا کہ وہ فیصلہ واپس لے لیں۔

’والدہ نے سیاست میں رہنے کا حکم دیا ہے‘
انہوں نے کہا کہ میری والدہ کا حکم ہے کہ سیاست میں بھی رہنا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان میں بھی رہنا ہے، میں اپنی والدہ کے حکم کے آگے سرجھکاتا ہوں۔

’نئے عزم اور نئی توانائی کے ساتھ آپ کی محبت کے جواب میں سیاست میں بھی آتا ہوں اور ایم کیو ایم پاکستان کی دوبارہ ممبرشپ لیتا ہوں۔‘

اس موقع پر فاروق ستار کی والدہ نے مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کو پارٹی میں واپس آنے کی دعوت بھی دی۔

ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹے سے کہا ہے جیسے خدمت کررہے ہو ویسے کرتے رہو۔

اپنی پہلی پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا جس کے بعد پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے انہیں منانے کی کوشش کی۔

سیاست سے دستبرداری کے اعلان کے بعد فاروق ستار نے کہا کہ پرسوں چہلم کے بعد عزیز آباد شہداء کے مزار پر جاؤں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں