70

وہ شخص چل بسا جس نے تاریخ بدلی

سندھ کے معروف مفکر، ترقی پسند ادیب اور دانشور محمد ابراہیم جویو 102 برس کی عمر میں سانس کی تکلیف کے باعث چل بسے۔

ابراہیم جویو کو اپنی تاریخ بدل دینے والے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیوں کہ انہوں نے 102 سال میں وہ اعزاز حاصل کیا، جو زیادہ تر زندہ انسانوں کو اپنی زندگی میں نہیں ملتا۔

ابراہیم جویو کو جس ادارے نے کتاب لکھنے کے جرم میں 65 برس قبل نوکری سے برطرف کردیا تھا، اسی ادارے نے ان کی نہ صرف کتاب شائع کی، بلکہ ان سے معذرت کرتے ہوئے اپنے 65 برس پرانے دیے گئے آرڈرز بھی واپس لیے، اور یہ اعزاز ہر کسی کو نہیں ملتا۔

تاہم اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، وہ 9 نومبر کو صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں چل بسے، ،،زندگی کے آخری ایام تک ابراہیم جویو ادب، تاریخ، فلسفہ، مذہب اور انسانی حقوق پر لکھنے اور پڑھنے کا کام سر انجام دیتے رہے۔

محمد ابراہیم جویو کی نماز جنازہ حیدرآباد کی صحافی کالونی میں ہی ادا کی گئی، جس میں حکومت سندھ کے اعلیٰ عہدیداروں، سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سماجی کارکنان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ابراہیم جویو سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ کوٹڑی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’آباد‘ میں انتہائی غریب خاندان کے ہاں 13 اگست 1915 میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انہوں نے گاؤں میں ہی حاصل کی۔

اس کے بعد وہ ضلع دادو کے ہی چھوٹے شہر ’سن‘ کے ایک اسکول میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے مزید تین درجے تعلیم کی، جہاں انہیں سندھ کے قومپرست سیاستدان، مؤرخ، دانشور، ترقی پسند رہنما سید غلام مرتضیٰ شاہ (جی ایم سید) کی جانب سے اسکالر شپ ملتی رہی۔

ابراہیم جویو1930 میں میٹرک کے لیے کراچی کے سندھ مدرست الاسلام اسکول پہنچے، جہاں سے انہوں نے 1934 میں بمبئی یونیورسٹی کے تحت اعلیٰ نمبروں میں میٹرک مکمل کی، وہ ضلع دادو میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جس پر انہیں بمبئی یونیورسٹی سے ماہانہ 20 روپے اسکالر شپ دی گئی۔

ابراہیم جویو نے 1936 میں بمبئی یونیورسٹی سے ہی ’دیوان دیارام جیٹھمل‘ (ڈی جے) سائنس کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا، اس کے بعد وہ سندھ مدرست الاسلام اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات سر انجام دینے لگے، جہاں سے انہیں 1941 میں بمبئی کے گورنمنٹ ای ٹی کالج میں بی ٹی کی ڈگری لینے کے لیے بھیجا گیا، جہاں سے واپس آنے کے بعد انہوں نے 1946 میں ’سیو سندھ-سیو کانٹیننٹ‘ کتاب لکھی، جس پر انہیں نوکری سے برطرف کردیا گیا۔

ابراہیم جویو نے اس کتاب میں دراصل آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست، ان دونوں پارٹیوں کی جانب سے ہندو-مسلم معاملات کو اچھالنے اور سندھ کے روشن خیال سماج کو پہنچنے والے نقصانات پر تاریخی دلائل دیے تھے۔

ابراہیم جویو نے فرینچ انقلاب، ترقی پسند ادب، تاریخ، فلسفہ، سیاست، ادب، انسانی حقوق اور سماجی مسائل پر کم سے کم 50 کتابیں لکھیں، اور ترجمہ کیں، جب کہ 100 کے قریب آرٹیکلز بھی لکھے۔

سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت نے 2013 میں ابراہیم جویو کی سالگرہ کا 100 سالہ جشن منانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں سندھ اور کراچی یونیورسٹیز کے سابق وی سیز، رکن سندھ اسمبلیز، سندھی و اردو ادب کے ادیب، دانشور اور مفکر شامل تھے۔

اس کمیٹی نے دارالحکومت کراچی سمیت حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں ابراہیم جویو کی سالگرہ کی تقریبات منعقد کیں، جب کہ اسی کمیٹی کے تحت ابراہیم جویو کے تمام کتابوں کی دوبارہ اشاعت کی گئی۔

ابراہیم جویو کے 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، وہ فکری لحاظ سے سائیں جی ایم سید، ایم این رائے اور دیگر مفکرین سے متاثر تھے، جب کہ ان کے قریبی دوستوں میں جی ایم مہکری، عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، سندھ کے عظیم شاعر شیخ ایاز، ڈاکٹر گربخشانی اور بھیرو مل مہرچند آڈوانی سمیت دیگر اعلیٰ دانشور،مفکر، ادیب اور فلسفی شامل تھے۔ ابراہیم جویو فیض احمد فیض، سید مظہر جمیل، مسلم شمیم اور اردو ادب کے دیگر شاعروں اور ادیبوں کے بھی قریب رہے۔

ابراہیم جویو کے انتقال پر سندھ کی مختلف ادبی، سیاسی وسماجی تنظیموں نے تین دن سے ایک ہفتے تک سوگ کا اعلان کیا، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ، رسول بخش پلیجو اور دیگر دانشوروں، ادیبوں اور مفکروں نے تعزیب کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ان کے لیے تعزیتی ریفرنس بھی منظور کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں