120

نواز شریف پر نیب ریفرنسز میں دوبارہ فرد جرم عائد

سابق وزیراعظم نواز شریف پر نیب کے تین ریفرنسز میں دوبارہ فرد جرم عائد کردی گئی تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کی۔

اس موقع پر نواز شریف کی موجودگی میں ان پر ایک مرتبہ پھر تینوں ریفرنسز میں فرد جرم عائد کی گئی اور جج محمد بشیر نے انہیں فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے۔

سابق وزیراعظم نے روسٹرم پر آکر تینوں ریفرنسز میں صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا اور میرے بنیادی حقوق سے انکار کیا گیا۔

عدالت نے نواز شریف پر لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں دوبارہ فرد جرم عائد کی۔

اس سے قبل ان کی غیر موجودگی میں پیش ہونے والے نمائندے ظافر خان کے ذریعے نواز شریف پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران فاضل جج محمد بشیر نے نواز شریف کی تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے نواز شریف پر باضابطہ فرد جرم کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سماعت 15 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

آج کی کارروائی کے باعث مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں عائد فرد جرم میں ترمیم کی درخواست پر سماعت نہ ہوسکی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف آج پانچویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 26 ستمبر، 2 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں