95

قائداعظم یونیورسٹی کے بلوچ طلبہ کی کوئی خیر خبر؟؟؟

قائداعظم یونیورسٹی کے بلوچ طلبا کا احتجاج اپنی اگلی منزل کو پہنچ چکا ہے اور بھوک ہڑتالی کیمپ سے طلبا ہسپتال منتقل ہو چکے ہیں۔

کوئی جو پوچھے کہ آخر کیوں یہ طلبا اپنے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ اور اس طرح سیاسی عمل میں خود کو زلیل کر رہے ؟ تو یہ معملہ انتہائی سادہ سا ہے کچھ عرصہ پہلے بلوچ اور سندھی طلبا گروپس کے درمیان لڑائی ہوئی اور جس کو بنیاد بناتے ہوے انتظامیہ نے طلبا کو جامعہ سے نکال دیا یا یوں کہیں کے طلبا کے مستقبل پر کاری ضرب لگائی۔

پچھلے عرصے سے جاری احتجاج میں بلوچ طلبا کا سادہ سا مطالبہ رہا کے نکالے گئے طلبا کو بحال کیا جائے کہ یہ کسی بھی طرح کوئی اچھا اقدام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اچھی مثال ہے جس سے طلبا کی بہتر سرگرمیوں کو تقویت پہنچتی ہو ، بلکہ مظلوم قوم کے نوجوانوں کی سوچ کو مذید انتشار میں دھکیلتی ہے ۔

انتظامیہ نے بڑے شاطرانہ انداز میں طلبا کے کچھ مطالبات تسلیم کر لیے اور بلوچ طلبا کے اس انتہائی حقیقی ، حقیقی مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا۔ یوں بلوچ طلبا تو اپنے مطالبے پر ڈٹ گئے لیکن باقی طلبا تنظیمیں اور نام نہاد انقلابی حضرات پیچھے ہٹ گئے اور اسے صرف بلوچوں کا مسلئہ بیان کر خود کو ایک طرف کر دیا ۔

ہم ان تمام تنظیموں اور نام نہادوں سے پوچھنا چاھتے ہیں کہ آیا کسی بھی طالبعلم کو اس کے کورس کے درمیان میں کسی بھی مسلئے کے اوپر نکال دینا کیا کوئی سہی اقدام ہے ؟ کیا طلبا کو پر آمن احتجاج پر مارنا پیٹنا اور جیل میں ڈالنا کوئی سہی اقدام ہے ؟ کیا واقعی یونیورسٹی کی ایسی کوئی بھی کاروائی صرف بلوچوں کا مسلئہ رہ جاتا ہے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہر قوم کے جوان کو پہلے سے ہی بتا دیا جاتا جب وہ مشترکہ مسائل پر بھی ساتھ کھڑے تھے کے اس میں سب کے الگ الگ مفادات ہے اور سب انہی کے گرد رہے ۔ جب کہ اتحاد اتحاد پیٹا گیا اور جب بلوچ اپنے سادے سے مطالبے کے حق میں نکلے تو اسے قومی اور ایک قوم کا مسلئہ بنا دیا گیا ۔

مسلئہ بہرحال بلوچوں کے ساتھ ہوا ، انتظامیہ نے چاھے جس بھی سوچ کے تحت بلوچوں کو منتخب کر یہ کاروائیاں کی ، لیکن یہ مسلئہ یونیورسٹی کی پالیسی کا ہے کہ وہ اختیار نہیں رکھتی کے کسی بھی انرول طالبعلم کو نکال سکے ہاں اس کے پاس اختیار ہونا چاہیے کے وہ طلبا کو غلط کام پر سزا کے طور پر کچھ عرصے کے لیے کلاسس لینے پر پابندی لگائے یا جرمانہ عائد کرے لیکن اس طرح کسی طالبعلم کا مستقبل تباہ کرنے کا حق یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن اس معاملے پر ہر اس شخص نے چپ ساد لی جو کل تک بڑی بڑی انقلابی لفاظیوں کا ورد کرتے نہیں تھکتے تھے اور ہر محاز پر طلبا کے اتحاد کے داعی تھے اس انتہائی سنجیدہ مسلئے پر اپنے بلوں میں جا بیٹھے اور وہی سے تماشا دیکھنے میں مگن ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے اور اپنی ڈیمانڈز کے پورے ہونے پر شیخی بکھار رہے ہیں ۔

مدعا یہ ہے کہ کل جو مطالبات پورے ہوئے وہ طلبا کے مطالبات تھے جن میں بلوچ طلبا بھی شامل تھے اور اگر آج بلوچ طلبا کے مطالبات مانے جاتے ہیں تب بھی جیت طلبا کی ہی ہوگی اس سے بلوچ طلبا کے سینے پر کوئی امتیازی نشان نہیں لگنے والا ۔۔ مگر حیف پاکستان کی ترقی پسند جماعتوں پر کے ان کی ترقی پسندی صرف اپنے مخصوص مفادات تک ہی رہتی ہے اور جب بھی کوئی مظلوم اپنے حقیقی مطالبات کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے یہ غیر ترقی پسند ، نفاق ڈالنے والا اور اس طرح کی بے ہودہ لفاظی میں چھپانے کے کوشش کرتے ہوے اپنے نام نہاد انقلابی ہونے کے دعوے کو تسلیاں دیتے ہے ۔

آج بلوچ طلبا کے ساتھ ان کا نہ کھڑا ہونا صرف ایک غداری ہی قرار دی جا سکتی ہے اور کچھ نہیں ۔ کل تک جو مطالبات درست تھے آج وہ نہیں رہے ، کل تک جو ان کی سیاست چمکانے میں مددگار تھے آج وہ سنجیدہ نہیں رہے ۔ یہ کیسے دوغلے اقدار ہے جو آپ کے مفاد میں ایک ہی معاملے کو سہی گردانتا ہے اور اس پر اتحاد ایک ساتھ کھڑے ہونے کی بات ہوتی ہے اور آپ کے مفاد سے ہٹ کر کوئی بھی مطالبا قومی یا علیحدہ معاملہ بن جاتا ہے جس سے نہ آپ کا کوئی تعلق ہوتا ہے اور نا ہی وہ حقیقی رہ جاتا ہے۔

باقی طلبا جو کل ایک ساتھ کھڑے تھے آج اپنے ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ گئے ہے کیا یہ بے غیرتی نہیں ہے ؟ کیا یہ تعصب نہیں ہے؟ کیا یہ مذید قوموں کے درمیان دوریاں نہیں بڑھاے گا ؟؟

نام نہاد انقلابی حضرات جو بلوچ جوان کو اپنے ساتھ ملانے کیلیے بلوچستان کے حالات پر مگرمچھ کے آنسو روتے ہیں کسی بھی سنجیدہ مسئلے پر اپنی ڈیڑ فٹ کی مسجد میں اسے غلط رنگ دیتے ہوے پائے جاتے ہیں ۔ ہر سنجیدہ مسئلے پر جو قومی ظلم کو بڑھاوا دیتا ہے ان کا موقف ظلم کرنے والے کے حق میں زیادہ ہوتا ہیں ۔ انہیں کسی ڈرائنگ روم میں بٹھا کر انقلابی لفاظی کا لمبا چوڑا سیشن یا سیشنز کروا لیے جائے پر مجال ہے کہ کسی حقیقی مسئلے پر ان کی عملی شرکت یا اخلاقی سپورٹ ہی ہو ۔

آج اور کل یہاں کے مظلوم طبقے و مظلوم قوموں کو آگر اپنے مسائل کا حل نکالنا ہے تو اس کے لیے اتحاد لازمی شرط ہے، اور اس اتحاد کے لیے مستقل ایک دوسرے کے حقوق کیلیے ، مشترکہ مفادات کی جنگ لڑنی ہو گی، یہ ایک شخص کی آزادی کے ساتھ ساتھ کروڑوں ، اربوں لوگوں کی آذادی کی جنگ ہے جس میں آج ہم میں سے کسی پے بھی وار کل دوسرے پر وار کیلیے راستے کھولے گا ۔ قائداعظم یونیورسٹی جیسے مسئلہ ہو یا قوموں کی حق خودارادیت جو کوئی بھی کسی قوم کو یا کیسی بھی اقلیت کو ان کے حقوق ملنے کی بات نہیں کرتا اور ان کے ساتھ ان کی جنگ میں شریک نہیں ہوتا وہ در حقیقت برسراقتدار لوگوں کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے اور اس کا کوئی بھی ایجنڈہ آخری تجزئیے میں موقع پرستی کے سنگین جرم پر ہی آ کے ختم ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں