119

نواز شریف نے عدالت کو بے وقوف بنایا، سپریم کورٹ

اسلام آباد( 07 نومبر 2017) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف انکے بچوں اور اسحاق ڈار کی جانب سے پانامہ فیصلہ کیخلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے ،جس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا، ایف زیڈ ای کی تنخواہ انکا اثاثہ تھی، نواز شریف کی نااہلی سے متعلق شواہد غیر متنازعہ تھے اور بادی النظر میں مریم نواز لندن فلیٹس کی مالک ہیں.

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان کی جانب سے تحریر کیے گئے 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نظر ثانی کی درخواستوں میں پانامہ فیصلہ میں کسی سقم یا غلطی کی نشاندہی نہیں کی گئی جس پر نظر ثانی کی جائے، احتساب عدالت کو چھ ماہ میں مقدمہ کا فیصلہ کرنے کی ہدایت سے ٹرائل متاثر نہیں ہو گا ، احتساب عدالت شواہد کی نوعیت پر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے اور ضعیف شواہد کو رد کرنے کا فیصلہ کرنے کی بھی مجاز ہے.

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے لیے شواہد غیر متنازعہ تھے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے فیصلہ سے نواز شریف کو حیران کر دیا گیا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ پانامہ ما فیصلہ میں دی گئیں آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں، عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں نگران جج کی تعیناتی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران جج کا تقرر نئی بات نہیں ہے تعیناتی کا مقصد. صرف ٹرائل میں بیپروائی کو روکنا ہے، یہ تصور نہیں کیا جاسکتا نگران جج ٹرائل پر اثر انداز ہونگے.

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہیں اور یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹ سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق کا مواد موجود نہیں ہے ،

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے کاغذات نامزدگی میں جھوٹابیان حلفی حلفی دیا گیا کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثے بتانا قانونی ذمہ داری ہیامیدوار نے عوام کی قسمت کے معاملات کودیکھناہوتا، منتخب رکن کواس معاملے پررعائت دیناتباہی ہوگی ایف زیڈ ای کی ساڑھے چھ سال کی تنخواہ نواز شریف کااثاثہ تھی، تنخواہ کمپنی پرواجب الادااورنوازشری?ف کمپنی کے ملازم تھے، تسلیم نہیں کیاجاسکتاکہ اثاثوں میں غلطی حادثاتی یاغیرارادی تھی، عدالت نے کہا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے معاملے کامحتاط ہوکرجائزہ لیا،

فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب،آئی بی،اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک میں اعلی شخصیت کااثرورسوخ ہے، ایف آئی ایاورایس ای سی پی میں بھی اعلی شخصیت کااثررسوخ ہے، نیب کوجے آئی ٹی کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاناچاہیے عدالتی فیصلے کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی اور عدالت کو بھی بے وقوف بنایا،نواز شریف یہ بھول گئے کہ لوگوں کو کچھ وقت کیلیے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے،لوگوں کو کچھ دیر کیلیے تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا،

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیزیں اپنا آپ خود بول کر بتاتی ہیں،اردو کا ایک شعر نواز شریف کی کیفیت کو بیان کرتا ہے،فیصلہ میں شیر بھی لکھا گیا ہے ادھر ادھر کی نہ بات کر،یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا،مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں،تیری رہبری کا سوال ہے.

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے پانامہ لیکس سے متعلق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید و دیگر کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 28 جولائی کو نواز شریف کو بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دیا تھا اور انکے بچوں حسن نواز ،حسین نواز ،مریم نواز ،اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کیخلاف نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا جس پر نیب نے ریفرنسز دائر کردیئے ہیں اور نواز شریف اسحاق ڈار پر فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے تاہم نواز شریف اور انکے بچوں نے پانامہ فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے نظر ثانی درخواست دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے خارج کرتے ہوئے مختصر حکم جاری کیا تھا کہا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں