136

دسمبر میں بڑے زلزلے کی بڑی پیشنگوئی

غیر معمولی چھٹی حس رکھنے کے دعویدار ایک بھارتی شہری کے بحر ہند میں زلزلے اور سونامی کی پیشگوئی کے بارے میں اپنے وزیراعظم کو لکھے گئے خط نے پاکستان میں ریاستی اداروں کو اس سال دسمبر میں ممکنہ زلزلے اور سونامی کے اثرات سے بچنے کے لیے تیاریوں پر مجور کر دیا ہے۔

بابو کلایل نامی بھارتی شہری نے ستمبر میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی غیر معمولی حسی صلاحیت کی بنیاد پر یہ بتا سکتا ہے کہ اس سال کے ختم ہونے سے پہلے بحر ہند میں ایک زلزلہ آئے گا جس سے سونامی پیدا ہو گی جس سے ایشیا کے سات ملک متاثر ہوں گے جن میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

اس پیشگوئی کی کوئی سائنسی توجیح بیان نہیں کی گئی ہے کیونکہ دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی تکنیک دستیاب نہیں ہے جس کے ذریعے زلزلے کی 15 سیکنڈ سے پہلے اطلاع دی جا سکے۔

سوشل میڈیا میں یہ خط شائع ہونے کے بعد وائرل ہوا اور مختلف اخبارات نے اس پر خبریں شائع کیں جس میں اس شخص اور اس کی اس پیشگوئی کا مذاق اڑایا گیا۔

لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ پاکستانی اداروں نے اس شخص اور اس کی پیشگوئی کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت سے صارفین میڈیا میں گردش کرنے والا ایک سرکاری حکمنامہ پڑھ کر حیران و پریشان رہ گئے۔ یہ ایک اندرونی مراسلہ تھا جو ملک میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے ادارے ایرا کے سربراہ کی جانب سے اپنے سٹاف کے بعض ارکان کو بھیجا گیا تھا۔

ایرا کے سرکاری کاغذ پر تحریر کردہ اس حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کی جانب سے بحر ہند میں زلزلے کی پیشگی اطلاع کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ادارے کا ایک اجلاس چھ نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔

اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے مستقبل قریب میں بحیرہ عرب میں ایک بڑے زلزلے کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایرا کی جانب سے بار بار رابطے کے باوجود اس مراسلے کی صحت کے بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے لیکن پاکستانی محکمۂ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی جانب سے اس طرح کی اطلاع کے بعد ان کے ادارے سمیت متعدد پاکستانی سرکاری ادارے بحر ہند میں اس ممکنہ زلزلے اور اس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے اس تنبیہ کی بنیاد بھارتی وزیراعظم کو لکھا گیا ایک خط ہے جس میں دسمبر کے آخر میں بحر ہند میں زلزلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشگوئی کی کوئی سائنسی توجیح نہیں ہے اس کے باوجود ہم اس کے اثرات سے بچنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں اور ایرا نے بھی اس بارے میں ایک مراسلہ تحریر کر کے اس پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔

جب ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ اس پیشگوئی کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے جاپانی ماہرین سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے بھی کہا کہ وہ ایسی کسی ٹیکنالوجی سے آگاہ نہیں ہیں جس سے زلزلے کے بارے میں پیشگی اطلاع مل سکے۔

پھر بغیر سائنسی تصدیق یا بنیاد کے بغیر ایک عام آدمی کی پیشگوئی کی بنیاد پر بحر ہند میں سونامی کے لیے تیاریاں کرنے کا کیا مطلب؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ اگر سائنس میں زلزلے کے بارے میں پیشگوئی کا طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے ہمیں اس طرح کی اطلاع کو بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی تیاریاں کر لینی چاہئیں کیونکہ اس علاقے میں زیر سمندر زلزلے کا خطرہ موجود ہے اور اس خطے میں پہلے بھی زلزلے آتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں