83

صحرا کی بلبل کو دنیا سے گئے چار برس بیت گئے

صحرا کی بلبل کو دنیا سے گئے چار برس بیت گئے ۔ درد بھری آواز آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے ۔ ریشماں کے چاہنے والے آج ان کی برسی منارہے ہیں ۔

گلوکارہ ریشماں نے کئی دہائیوں تک سننے والوں کے دلوں پر راج کیا اورجوبھی گایا اسے امر کردیا۔

گلوکارہ ریشماں کو صحرا کی بلبل کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے ۔

1947ء کو جنم لینے والی گلوکارہ ریشماں کا تعلق خانہ بدوشوں کے خاندان سے تھا جو کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوا۔

ریشماں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز محض 12برس کی عمر میں ریڈیو پاکستان سے کیا۔ ’’ہائے او ربا نئیں او لگدا دل میرا‘‘، ’’چار دنا دا پیار او ربا، بڑی لمبی جدائی‘‘، اور ’’اکھیوں کو رہنے دو اکھیوں کے آس پاس‘‘ جیسے گیت گا کر شناخت حاصل کی۔

انتہائی غریب اورخانہ بدوش خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے ریشماں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی تھی وہ کم سنی میں ہی مختلف صوفیاء کے مزاروں پر گنگنایا کرتی تھیں عظیم صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزا رپر ’’ ہو لعل میری ‘‘ گانے پر انھیں ریڈیو اور بعدازاں ٹی وی پر بھی گانے کا موقع ملا۔

وہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دعوت پر بھارت بھی گئیں ان کے متعدد گیت بھارتی فلموں میں بھی شامل کیے گئے۔

سال1980ء میں انھیں گلے کے کینسر کا انکشاف ہوا سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے علاج معالجہ کے لیے انھیں بھرپور امداد فراہم کی گئی حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ستارہ امتیاز اور ’’بلبل صحرا‘‘ کا خطاب عطاء کیا گیا۔ ریشماں 3 نومبر2013ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں