70

درختوں کو کیوں کاٹا؟ سپریم کورٹ کا کارروائی کا حکم

سپریم کورٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر درختوں کی کٹائی کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت

‏ہمارے حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، سی ڈی اے لوگوں اور اداروں کو گمراہ کرتا ہے، جسٹس عظمت سعید‏

ہمیں بتائیں درخت کاٹنے پر کس کو جیل بھیجیں، جسٹس فائز عیسی

ٰ‏سی ڈی اے کو کوئی شرم و حیا نہیں، جسٹس عظمت سعید‏

میں نے خود ایمبیسی روڈ پر ہزاروں درخت کٹے دیکھے ہیں کیا سی ڈی اے کو تنخواہ ماحول کو تباہ کرنے کیلیے دی جاتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی

ٰ‏ایمبیسی روڈ کو وی آئی پیز کی آمد و رفت کیلیے کشادہ کیا جا رہا ہے، وکیل سی ڈی اے‏

سی ڈی اے افسران کو 23مارچ پر نشان پاکستان ملنا چاہیے‏، سی ڈی اے افسران کو اپنے خلاف کارروائی نہ ہونے کی غلط فہمی ہے، ‏حرام خوری چھپانے کیلیے درختوں کی کٹائی کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا،جسٹس عظمت سعید‏

‏زون تھری اور فور میں تجاوزات پر کارروائی کر رہے ہیں، وکیل سی ڈی اے‏

اتنے کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں جس سے اسلام آباد وار زون لگ رہا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ‏

‏قانون پر عملدرآمد نہ ہونے پر کیوں نہ ہم اور آپ دونوں گھر چلے جائیں وفاقی دارالحکومت میں قانون کا اطلاق نہیں ہو گا تو پھر کہاں ہو گا، جسٹس عظمت سعید‏

عدالت کا ڈی جی ماحولیات اور ڈی جی اسٹیٹ اور سی ڈی اے کو ذمے داروں کیخلاف ایک روز کے اندر کارروائی کا حکم

عدالت نے ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی سے متعلق حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں