70

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری بر قرار

احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد کر دی اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ بر قرار رکھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت میں اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث پیش نہیں ہوئے۔ ان کی معاون وکیل عائشہ احد اور ضامن احمد علی پیش ہوئے۔

معاون وکیل نے اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ احتساب عدالت میں پیش کرتے ہوئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دیدی۔ انہوں نے کہا کہ موکل کی 3 نومبر کو لندن میں انجیو گرافی ہے۔
ضامن نے بتایا کہ اسحاق ڈار لندن میں زیر علاج ہیں جس پر عدالت نے ضامن کو بیان تحریری طور پر دینے کی ہدایت کی۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے میڈیکل رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ نجی کلینک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں ملزم کے گرفتار ہونے پر انجیوگرافی کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ مفتی عبدالقوی کو بھی انجیوگرافی کرانا پڑی۔

نیب پراسیکیوٹر نے اسحاق ڈار کے نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے ان کے بینک اکاﺅنٹس اور اثاثوں کی تفصیلات بھی پیش کر دیں۔

اسحاق ڈار کی وکیل عائشہ احد نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے سے پہلے اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں بعد میں نہیں۔ چیئرمین نیب کا حکم درست نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کو ملزم کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے اسحاق ڈارکے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے نیب کو اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ کی تصدیق کرانے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے وزیر خزانہ کو آٹھ نومبر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی اثاثے منجمد کرنے کی درخواست پر فیصلہ بھی محفوظ کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں