89

کیا آپ بھی ٹیکنالوجی سے متعلق اِن غلط مفروضوں پر یقین رکھتے ہیں؟

ہم ایک ہائی ٹیک دور میں سانس لے رہے ہیں جِس میں ہمارا ہر کام ٹیکنالوجی کا محتاج ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہم اکثر شکوک و شبہات کا شکار بھی رہتے ہیں۔

کئی اقسام کے مفروضے ہم نے ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر رکھے ہوئے ہیں جِن کی حقیقت معلوم کی جائے تو وہ غلط ثابت ہوتے ہیں۔ ذیل میں اسی قسم کے پانچ مفروضے بیان کیے گئے ہیں جو لوگوں کے نزدیک تو درست ہیں لیکن ماہرین کے مطابق غلط ہیں۔ کیا آپ بھی ایسے ہی کسی غلط مفروضے پر یقین رکھتے ہیں؟

بہترین سپیکس = بہترین ڈیوائس

یہ ایک عام مفروضہ ہے کہ جس ڈیوائس کے سپیکس بہترین ہوں گے وہ استعمال میں بھی بہترین ہوگی۔ اسی مفروضے پر یقین رکھتے ہوئے لوگ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ تھوڑے سے مزید پیسے خرچ کر کے زیادہ مہنگی اور بہترین سپیکس والی مشین لے لیں۔ موبائل اور لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنیاں بھی ایسی ہی مارکٹینگ سٹریٹیجی استعمال کرتی ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے؟

حقیقت میں آپ کے لئے وہی موبائل اور لیپ ٹاپ بہترین رہتا ہے جس کی آپ کو ضرورت ہو۔ اگر آپ ایک تیز پروسیسر والا لیپ ٹاپ خرید لیں اور آپ کی ضرورت صرف یونیورسٹٰی کی اسائنمنٹ بنانا ہو تو یہ لیپ ٹاپ آپ کے لئے نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کے لئے زیادہ مفید ہوگا جو گیمز کھیلتا ہو یا پھر ویڈیو ایڈیٹںگ کا کام کرتا ہو۔کسی بھی ڈیوائس کو خریدتے ہوئے اُس میں ایسے سپیکس کی موجودگی یقینی بنائیں جن کی آپ کو ضرورت ہو۔

بیٹری زیرو پر ہو تب ہی فون ریچارج کرنا چاہئیے

کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ موبائل یا لیپ ٹاپ کو چارج کرنے سے پہلے اس کی بیٹری مکمل طور پر استعمال کرنی چاہئیے وگرنہ بیٹری خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اِس مفروضے کی جڑ ماضی قریب میں ملتی ہے جب موبائل اور لیپ ٹاپ میں نِکل میٹل ہائڈرائڈ اور نِکل کیڈمیم کی بنی ہوئی بیٹریاں استعمال کی جاتی تھیں۔ اِن بیٹریوں میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ اگر اِن کو مکمل خرچ کئے بغیر چارج کیا جاتا تھا تو یہ مکمل چارج نہیں ہوتیں تھیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی بھی کم ہوتی جاتی تھی۔

لیکن آج کل موبائل یا لیپ ٹاپ میں لیتھیم آئن کی بیٹری استعمال ہوتی ہے۔ اِس بیٹری کے ساتھ ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ اِن بیٹریوں کو مکمل خرچ کرنے سے پہلے چارج کرنا چاہئیے ورنہ یہ خراب ہو سکتی ہیں۔ ان بیٹریوں کو اِن کا درجہ حرارت شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لئے جیسے ہی آپ کا موبائل یا لیپ ٹاپ گرم ہونا شروع ہو اُسے تھوڑی دیر کے لئے رکھ دیں تا کہ اُس کا درجہ حرارت معتدل ہو جائے۔

زیادہ میگا پکزلز والا کیمرہ ہی بہترین تصاویر لے سکتا ہے

ٹیکنالوجی سے متعلق ایک اورغلط مفروضہ یہ ہے کہ زیادہ پکزلز والا کیمرہ ہی بہترین تصاویر لے سکتا ہے۔ فوٹو گرافرز اس مفروضے پر یقین نہیں رکھتے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایک کیمرے سے بہترین تصاویر کیسے لی جائیں، اِس بات کا انحصار پکزلز سے زیادہ کیمرے کی سیٹنگز اور فوٹوگرافر کی مہارت پر ہوتا ہے۔

ایک اچھے کیمرے کے انتخاب میں پکزلز ضرور اہمیت رکھتے ہیں لیکن زیادہ پکزلز کبھی اِس بات کی ضمانت نہیں ہوتے کہ اُس کیمرے یا موبائل سے بہترین تصویر آئے گی۔ بہت سے ایسے فوٹوگرافرز ہیں جو ایک عام فون یا کیمرے سے بہترین تصویر لے لیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک مہنگے کیمرے اور موبائل سے بھی ایک اچھی تصویر نہیں لے پاتے۔

نیا ماڈل آنے کے قریب پرانے ماڈلز سست رفتار ہو جاتے ہیں

اکثر اوقات ایسے ہوتا ہے کہ جب کوئی کمپنی لیپ ٹاپ یا موبائل کا نیا ماڈل نکالتی ہے تو جِن صارفین کے پاس اِس کمپنی کے پرانے ماڈلز ہوں اُن کو ایسے لگتا ہے کہ اُن کے فون یا لیپ ٹاپ کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ اِ س حوالے سے ایک عام سوچ یہ ہے کہ کمپنیاں ڈیوائس بناتے ہوئے اِن کی کارکردگی کی ایک مدت رکھتی ہیں، جِس کے بعد یہ سُست رفتار ہونے لگتی ہیں۔

حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ کوئی بھی کمپنی نیا ماڈل پچھلے ماڈل سے بہتر بناتی ہے۔ اُس کا پراسیسر، سکرین، میموری اور دیگر خصوصیات پچھلے ماڈل سے بہتر ہوتی ہیں۔ جب یہ نیا ماڈل مارکیٹ میں آتا ہے تو ایپ ڈیویلپرز اپنی ایپس کو اِن بہتر موبائل یا لیپ ٹاپ کے مطابق اَپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ اِس اَپ ڈیٹ کی وجہ سے وہ ایپ آپ کے پرانے ماڈل پر اُتنی بہتر طور پر نہیں چلتی جیسے پہلے چلا کرتی تھی۔

وارنٹی پیسوں کو حلال کرتی ہے

آج کل وارنٹی کے بغیر کوئی بھی چیز خریدنا کافی مشکل فیصلہ ہوتا ہے لیکن کیا وارنٹی واقعی آپ کو کوئی فائدہ دیتی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ وارنٹی کا صارف کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ مہنگی ڈیوائس کو خریدتے ہوئے لوگ وارنٹی پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ اِسی وجہ سے کئی کمپنیاں بھی اپنی ڈیوائس کے ساتھ ایک مہنگی سی وارنٹی بھی بیچتی ہیں جس کو نہایت خوشنما بنا کر گاہک کے سامنے پیش کیا جاتا ہے لیکن جب وہی گاہک اِس وارنٹی کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو پتہ لگتا ہے کہ یہ وارنٹی تو اُس کے کسی کام کی نہیں ہے۔

اکثر کیسز میں گاہک وارنٹی کے چکر میں وہ ڈیوائس مہنگی خرید رہا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیوائس خریدتے وقت اُس کے ساتھ ملنے والی وارنٹٰی کے بارے میں مکمل معلومات لینی چاہئیے۔ اگر وہ مناسب نہ لگے تو اُس پر پیسے خرچ نہیں کرنے چاہئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں