103

زائرین کو مشکلات : علامہ راجہ ناصر عباس بلوچستان حکومت پر برس پڑے

اسلام آباد (28 اکتوبر 2017) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ اور تفتان بارڈر پر پھنسے ایران اور عراق جانیوالے ہزاروں زائرین کو درپیش مشکل صورتحال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے ان کی بحفاظت روانگی کے فوری انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

ہفتہ کے روز نیشنل پریس کلب میں علامہ حسنین گردیزی ، علامہ اقبال بھٹی اور علامہ اصغر عسکری کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر پاکستان کومسائلستان کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ پاکستان میں کوئی سسٹم آپریٹ نہیں کررہا ہے جس کی وجہ سے عوام مختلف قسم کے مسائل اور مشکلات میں جڑے نظر آتے ہیں. انہوں نے کہ اکہ ہر سال آل رسول کے مزارات کی زیارات کیلئے بائی روڈ جانے والے زائرین جو کوئٹہ اور تفتان کے ذریعے ہرسال جاتے ہیں ان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں کوئٹہ میں زائرین ہفتوں انتظار کرتے ہیں کہ انہیں کانوائے کے ذریعے لے جایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں موجود ہزاروں زائرین پھنسے ہوئے ہیں جو 20 صفر سے قبل کربلا تک پہنچنا چاہتے ہیں، یہ زائرین بغیر کسی سہولیات کے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں کوئٹہ پاکستان بارڈر پر ان زائرین کیلئے کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں وہاں پر پانی بھی نہیں ملتا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان ہزاروں زائرین کو سہولیات فراہم کی جائیں. انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے حل کیلئے ہرجگہ رابطہ کیا مگر کہیں سے بھی جواب موصول نہیں ہوا ہے.

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہزاروں زائرین کھلے آسمان تلے موجود ہیں اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما ہوگیا تو اس کا ذمہ د ار کون ہوگا؟ انہوں نے حکومت پاکستان اور بلوچستان کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان زائرین کو درپیش مسائل حل کئے جائیں. انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ میں چار سو کے قریب زائرین کی بسیں موجود ہیں مگر انہیں تفتان بارڈر پر پہنچانے کا کوئی حل نہیں نکالا جارہا ہے. انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں عملدار روڈ پر عورتیں اور بچے ، ہزرگ شہری موجود ہیں جنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ان مسائل کوحل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت زیادہ افراد لاپتہ ہوچکے ہیں جن کے اہل خانہ شدید احتجاج کررہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے انہوں نے کہاکہ کئی کئی سالوں سے بے گناہ شہریوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے اور انہیں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ چند روز قبل پانچ کینیڈین شہریوں کو بازیاب کرایا گیا مگر ملک میں کئی سالوں سے لاپتہ افراد بازیابی کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کی جارہی ہے.

انہوں نے کہا کہ جن کو سالوں سے لاپتہ کیاگیا ہے اگر وہ قصور وار ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کریں اگر ان کا کوئی قصور ہے تو سزائین دے دیں اور اگر بے گناہ ہیں تو رہا کردیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بانا قابل مذمت ہے یہ قانون شکنی پاکستان کیلئے ناسور ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احتساب صروری ہے اگر کرپشن کی روک تھام نہ کی گئی تو ملک دیمک کی طرح ختم کردے گی.

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے الزامات میں نکالے جانے والے سابق وزیراعظم کا عدلیہ کے خلاف رویہ اور بیانات قابل مذمت ہیں سابق وزیراعظم کی بیٹی اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے اداروں کے خلاف رویئے قابل مذمت ہیں انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے اور ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ملک میں آزاد عدلیہ کا ہونا ضروری ہے ہمیں عدلیہ کا احترام کرنا چاہیے انہوں نے سینیٹ مین وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے نجات بے حد ضروری ہے امریکہ داعش اور بھارت کو سپورٹ کررہا ہے پاکستان کو چین ، ایران اور ترکی کے ساتھ مل کر اتحاد بنانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں