124

ن لیگ پر صرف نوازشریف کا ہی حق نہیں، چودھری نثار

کلر سیداں، ساگری (28 اکتوبر 2017 ) سابق وزیر دخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ شیخ رشید کسی غلط فہمی میں نہ رہیں وہ ان کے مشرف اور دیگر ادوار کے سیاسی اوراق کھول سکتا ہوں.

سابق وزیر داخلہ نے ساگری کلر سیداں میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہا کہ نواز شریف اور میں نے پارٹی کی ایک ایک اینٹ رکھی تھی، آج پارٹی کی اینٹیں لگانے والوں میں کوئی نہیں ہے، وزارت اس لئے واپس نہیں کی تھی کہ شدید اختلاف تھا، اعلیٰ عدالتوں پر تنقید کی پالیسی سے اختلاف ہے، اعلیٰ عدلیہ کو نشانہ بنانا نواز شریف اور پارٹی کے حق میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستی اداروں پر تنقید غیر ضروری ہے،الیکشن میں سات مہینے باقی ہیں، ان ساڑھے چار سالوں میں جو میں نے کام کئے وہ آپ کے سامنے ہیں، میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا، اس سے قبل ایم این ایز سے موازنہ کرلیں آپ کو فرق نظر آجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے حلقے کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اس حلقے کا مقابلہ پورے ملک میں کسی وزیر، گورنر، وزیراعلیٰ کے حلقے سے کرلیں، اگر آپ کا حلقہ سرفہرست نہ ہو تو مجھے ووٹ نہ دیں، میں نے ہر وہ چیز کی جس سے میرے حلقے کے لوگوں کا سر فخر سے بلند ہوا، کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس سے سر جھک جائے، میں نے روایت ڈالی ہے کہ سب لوگوں کو فنڈز دیتا ہوں، حتیٰ کہ مخالفین کے کام بھی کرتا ہوں، جس پر میرے دوست بھی ناراض ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں اور عوام کی بھلائی کے کام کرتا رہوں، میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں،منفی سوچ کا میں کچھ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام دو نمبر لوگوں کو ووٹ نہ دیں،میں وہ واحد شخص ہوں جس نے بڑی وزارت لینے سے خود انکار کیا، میں نے اپنی پارٹی کے اندر اختلاف رائے کیا، وزارت لے کر بھی اختلاف رائے کر سکتا تھا لیکن میں نے وزارت ٹھکرا کر اختلاف رائے کیا، یہاں پر سیاست نہیں کی جاتی بلکہ الزامات لگائے جاتے ہیں، گزشتہ روز ایک شخص کی تقریر سن کر شرمندگی ہوئی، مخالفین کو اپنی سیاست پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات سپریم کورٹ میں ہیں، دائرے میں رہ کر عدالتی فیصلے پر تنقید کی جا سکتی ہے، اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کا کیا نتیجہ نکلے گا چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اسمبلی میں گونگا، بہرہ ہو کر نہیں بیٹھتا، ڈنکے کی چوٹ پر بات کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں میرے سامنے کیا کچھ نہیں رکھا گیا، اپنی حکومت میں مجھے وزیر بننے کی آفر ہوئی لیکن ٹھکرا دی، پارٹی کو غلط راستے پر لے جایا جارہا ہے، اس لئے اختلاف رائے کیا، اب سیاست سیاست نہیں رہی بازی گری شروع ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا شیخ رشید اپنی سیاست کریں، مجھے میری کرنے دیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ شیخ رشید کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، میں ان کے مشرف اور دیگر ادوار کے سیاسی اوراق کھول سکتا ہو۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ واحد شخص ہوں جس نے وزارت لینے سے انکارکیا۔وزارت لیکربھی اختلاف رائے کرسکتا تھا،لیکن وزارت ٹھکراکر پارٹی میں اختلاف رائے کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پرسیاست نہیں بلکہ الزامات کی سیاست کی جاتی ہے۔ عہدوں کے پیچھے بھاگتا توسیاسی طورپراپنے آپ کوبیچ چکا ہوتا۔عزت عہدوں سے نہیں کردارسے ملتی ہے۔کوئی مجھ سے سیاسی طورپربکنے کی توقع نہ رکھے۔کل ایک شخص کی تقررسن کرشرمندگی ہوئی،مخالفین کو اپنی سیاست پرتوجہ دینی چاہیے۔

چوہدری نثارنے کہا کہ نوازشریف کیخلاف مقدمات سپریم کورٹ میں ہیں۔قانونی دائرے میں رہ کرعدالتی فیصلے پرتنقید کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کاکیانتیجہ نکلے گا؟اس کا کسی کواندازہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ میں اتفاق نہیں کرتاکہ کینیڈین فیملی کی وجہ سے تعلقات میں ٹھہراؤآیاہے۔امریکی وزیرخارجہ کے دورے کے بعد بھی بہتری نہیں آئی۔ہم بہت قربانیاں دیں امریکا نے ان کی قدرنہیں کی۔لہذایہ اس وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارحکومت اور عوام نے متحد ہوکرپیغام دیاکہ ہم سے عزت سے بات کرو۔اس سے ٹھہراؤآیا ہے۔چوہدری نثارنے کہاکہ مجھے اپنی حکومت کا بھارت سے دوستیاں بڑھانا بھی اچھا نہیں لگتا۔مودی دورمیں پاکستان کو بھارت سے خیرکی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے روہنگیا میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور مودی وہاں جا کر ان مظالم کے حق میں بولتا ہے میانمار حکومت سے اظہار یکجہتی کرتا ہے ۔

انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہاکہ ن لیگ میں نہ کوئی فارورڈبلاک یا تقسیم ہے نہ بن رہاہے۔اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ہے۔ن لیگ آئندہ انتخابات میں اتفاق کیساتھ اترے گی۔پارٹی جوبھی پالیسی بنائے گی وہ ملکی مفادمیں ہوگی۔ سابق وزیر داخلہ نے دی نیوز کے صحافی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کو فوری طور پر حملہ کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا احمد نورانی پر حملہ آزادی رائے پر حملہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں