105

ٹیڑھی گردن والی پاکستانی بچی سے اہل علاقہ خوفزدہ

صوبہ سندھ کے علاقے مٹھی میں ایک نو سالہ بچی سے لوگ اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ معاشرے سے کٹ کر رہ گئی ہے جس کی وجہ اس کی گردن 180 ڈگری کے ناممکن زاویے پر جھک جانا ہے۔

افشین قمبر نامی یہ بچی کسی نامعلوم عضلاتی مرض کی شکار ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے سر کو سیدھا رکھنے میں ناکام رہتی ہے۔

اس بیماری کے نتیجے میں افشین چلنے پھرنے یا کھڑے ہونے سے بھی معذور ہوگئی ہے اور ہر وقت بیٹھے رہنے پر مجبور ہوتی ہے۔ علاقے کے بچے اس بچی سے خوفزدہ جبکہ اہل علاقہ کا ماننا ہے کہ یہ بیماری گناہوں کا نتیجہ ہے۔ اس گردن کی وجہ سے یہ بچی اسکول بھی نہیں جاپاتی جبکہ اس کے دوست صرف اس کے چھ بہن بھائی ہی ہیں۔

اس کے والد 55 سالہ اللہ جڑیو اور ماں پچاس سالہ جمیلہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد مقامی ڈاکٹروں کو بچی کو دکھایا مگر انہیں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ ایسی بیماری کا علاج نہیں کرسکتے۔


بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کی حالت دیکھ کر خون کے آنسو رونے لگتے ہیں، اسے مزید تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے، اب تک کوئی ڈاکٹر بیماری کی تشخیص نہیں کرسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی ڈاکٹروں نے انہیں بچی کو کراچی کے جناح ہسپتال میں دکھانے کا مشورہ دیا ہے مگر ان پاس بڑے ہسپتال میں علاج کرانے کے وسائل نہیں۔

والدین کا کہنا تھا کہ افشین پیدائش کے وقت تو اپنے بہن بھائیوں کی طرح صحت مند تھی مگر آٹھ ماہ کی عمر میں اس کی زندگی بدلنا شروع ہوئی، والدہ نے بتایا کہ جب وہ آٹھ ماہ کی تھی تو وہ گھر کے باہر کھیلتے ہوئے زمین پر گرگئی جس سے گردن متاثر ہوئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شروع میں تو انہوں نے اسے نظرانداز کردیا مگر جب مقامی سطح پر اسے دکھایا گیا تو بھی اس کی حالت بہتر نہیں، عمر بڑھنے سے مسائل زیادہ پیچیدہ ہوگئے، وہ سر کو سیدھا نہیں رکھ پاتی جبکہ اکثر گردن میں درد کی شکایت کرتی ہے۔

مقامی ڈاکٹر دلیپ کمار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس طرح کے کیسز نہ ہونے کے برابر سامنے آتے ہیں، اس کی حالت ریڑھ کی ہڈی میں مسئلے یا عضلاتی مرض کی وجہ سے ہے مگر حتمی نتیجہ مناسب معائنے سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں