147

حوروں سے ملاقات سے قبل ماں یاد آگئی

26 اکتوبر 2017 انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ سیکولرسٹڈیز کی طرف سے سرینا ہوٹل اسلام آباد مین ایک فلم “امید سحر” دکھائی گئی۔ جوایک پنجابی جہادی نوجوان کی سچی داستان پرفلمائی گئی تھی۔

”یہ کوئی 4 سال پہلے کا واقعہ ہے، پنجاب کے کسی گاوں میں ایک آدمی کومدرسہ کا مولوی آہستہ آہستہ ریڈیکلائز کرتا ہے۔ اوروہ شخص ایک عام پنجابی دہہاتی کلچرسے سخت گیرمذہبی شدت پسند بن جاتا ہے۔ جہاں وارث شاہ کوبھی گانا حرام قراردے دیا جاتا ہے۔ بیوی عام پنجابی ماحول کی ہوتی ہے۔ اسے سخت پردے اورچاردیواری میں ڈال دیتا ہے۔ بچے کو جسے شہرجاکرپڑھنے کا شوق ہوتا ہے، اسے شہرمیں کسی مدرسے بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں سے بچوں کویہود وہنود کے خلاف نفرت دلائی جاتی ہےمسلمانوں کی مظلومیت اورغیرمسلموں کی عالم اسلام کے خلاف سازشیں، پھروہاں سے ہی اسے بھرتی کرکے افغان سرحد تک کسی جہادی کیمپ تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ جہاں خودکش بمبارتیارہوتے ہیں۔ وہاں کفاراورمنافقین (طالبان کےنزدیک عام پاکستانی شہری منافق قراردیا گیا تھا) کوزیادہ سے زیادہ تعداد میں دہشت گرد کارروائیوں کے زریعے ختم کرنے کی زہن سازی کی جاتی ہے۔ کچھ قیدی پکڑے بھی دکھائے گے، جن کووہاں بے دردی سے یا توتشدد کیا جاتا ہے یا ان کوگولی، پھانسی کے زریعے ماردیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان اپنی مرضی اورخوشی سے فدائی حملہ کرکے سیدھا جنت میں جانے کی شدید خواہش رکھتا ہے، جہاں بقول ٹرینراوراستاد حوریں منظرہیں۔ لیکن عین آخری وقت اسے اپنے بچپن کے واقعات، گھر، ماں باپ، عزیز یاد آتے ہیں۔ جب جیکٹ پہنانے کا وقت آتا ہے تو وہ طالبان لیڈرکوکہتا ہے، استاد جی آخری بارماں سے ملنے کودل کررہاہے۔۔ استاد غصے میں کہتا ہے، جس مشن کے لئے تمھیں کہا گیا، سیدھا وہاں جاو، حوریں تمھارے انتظارمیں ہیں۔ لیکن وہ ماں سے ملنے کا اصرارکرتا ہے۔ تواستاد وہہیں گولی اس کے سینے میں پارکردیتا ہے۔ یہ سارا ماحول دیکھ کریہ لڑکا بھی اپنے ماضی کے نارمل حالات کویاد کرنے لگتا ہے۔ اورایک دن قیدی کوجوٹیچرہوتا ہے۔ اسے چوری سے رہا کرادیتا ہے۔ اورجیکٹوں والے بارود کواکٹھا کرچلا دیتا ہے۔۔خود وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔””

اس فلم کو بنانے والی تنظیم کی روح رواں محترمہ Diep Saeeda ہیں۔ بقول ان کے یہ فلم وہ پنجاب میں کئی سو جگہ پردکھا چکی ہیں۔ ان کہنا ہے، کہ اس فلم کی تیاری کے لئے انہیں بڑے خطرات سے گزرنا پڑا۔ وہ ٹوپی والا برقعہ پہن کراس نوجوان کوملنے جایا کرتی تھی۔۔کبھی کسی جگہ کبھی کسی جگہ۔۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے۔ کہ انہوں نے پنجاب گورنمنٹ اورحتی کہ پاک فوج کے اداروں آئی ایس پی آرکوبھی خط لکھے۔ کہ اس فلم کوتعلیمی اداروں میں دکھانے کی اجازت اورسہولت دی جائے۔ فلم میں ہمارے ریاستی اداروں کے کردارکے بارے کچھ ذکرنہیں ہے۔ لیکن پھربھی کسی حکومتی اورریاستی ادارے نے ان کوکبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ ہاں ایجنسیوں کے لوگ ضروران سے اس کے بارے معلومات لینے آتے رہے۔۔ وہ کہتی ہیں۔ کہ نوجوان سابقہ جہادی کے انٹرویو۔۔ریکارڈ کرکے بینک لاکرمیں رکھ چھوڑیں ہیں۔ فلم کے آخرمیں حاضرین سے فلم کے بارے گفتگوکرنے کی دعوت بھی دی گئی۔ دپ سعیدہ صاحبہ کا کہنا ہے۔ کوئی بھی دوست کسی جگہ خاص طورپرتعلیمی اداروں میں دکھانے کا بندوبست کردے، تووہ ان کے ساتھ تعاون کریں گی۔

ریفریشن منٹ کے دوران کوئی میڈیا سے متعلق نوجوان میرے پاس آیا، کہنے لگا۔۔ پاکستان سے انتہا پسندی کوکیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔۔ میں نے کہا، جب ہماری ریاست اورقوم واقعی ایسا کرنا چاہے گی، انتہا پسندی ختم ہوجائے گی۔۔۔ ہم ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔

اس کی مثال آج اسلام آباد دھرنوں کے زمانے کی طرح پھرکنٹینرز اسلام آباد میں لگا دیئے گے۔۔۔ ختم نبوت کے سلسلے میں مولوی کی ریلی کہیں کل لاہورسے چلی تھی، اورآج وہ اسلام آباد ریڈ زون کی طرف گامزن تھی۔ سرینا ہوٹل کا فرنٹ راستہ بند کردیا گیا تھا۔ لاہورسے لے کراسلام آباد تک کل سے ہزاروں سیکورٹی افراد، گاڑیاں، متعین ہیں۔۔ معمول کی زندگی متاثرہوئی ہوگی۔۔ جب ختم نبوت پرپورے ملک میں ایک اتفاق رائے ہے۔ حکومت نے کروڑوں کے اشتہارات کئی دن سے قومی اخبارات میں چھپوارہےہیں۔ کہ ہم نے لفظ حلف کودوبارہ شامل کرلیا ہے۔ لیکن جان نہیں چھوٹ رہی۔۔ جب ریاست، حکومت، معاشرہ سارے کا سارا انتہا پسند مولویوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوچکا ہو، وہاں سوال انتہا پسندی کیسے دورہوگی۔۔ بکواس ہے۔

تحریر:
ارشد محمود

اپنا تبصرہ بھیجیں