94

جی ایچ کیو کی اسلام آباد منتقلی کا منصوبہ بحال کردیا، سیکریٹری دفاع

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کو بریفنگ میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیرالحسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جی ایچ کیو کی تعمیر کا منصوبہ بحال کردیا گیا ہے ، اس کی تعمیر پر 100 ارب روپے خرچ ہوں گے.

خیال رہے اس منصوبے کو اکتوبر 2008 سے 2009 کے درمیان اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف اشفاق پرویز کیانی نے مالی مشکلات کی وجہ سے ملتوی کردیا تھا، رواں سال جون میں قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سی ڈی سے کے ممبر اسٹیٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ پاک فوج نے جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو کو راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے اس حوالے سے ترقیاتی کام شروع کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیرالحسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جی ایچ کیو کی تعمیر کے نئے منصوبے سے 5 ہزار متاثرہ خاندانوں کو وہاں سے منتقل کیا جائے گا۔سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کے حکام کے مطابق جی ایچ کیو کی تعمیر کے لیے تمام رقم فوج خود فراہم کرے گی۔ضمیرالحسن نے کہا کہ ڈیفنس کمپلیکس کے لیے اسلام آباد میں 2450 ایکڑ اراضی مختص کی گئی. واضح رہے کہ اسلام آباد میں جی ایچ کیو کی تعمیر کا منصوبہ 1970 سے زیرغور تھا۔

پاک، افغان سرحد پر سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) ضمیر الحسن شاہ نے بتایا کہ سرحد کے 2611 کلومیٹر میں سے افغانستان کا 50 فیصد سے زائد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحد پر پاکستان کی 975 چوکیاں اور افغانستان کی 218 چیک پوسٹس ہیں جبکہ بلوچستان کی سرحد کے ساتھ افغان سرزمین کے 650 کلومیٹر پر کوئی چوکی نہیں۔ سیکرٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال 2017 میں پاکستان میں افغان سرحد سے 307 دہشت گرد حملے ہوئے.

سرحد پر سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سرحدی انتظام کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 73 ونگز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 29 قائم ہو چکے، ہر ایک ونگ کے اندر 700 سے 800 افرادی قوت ہے۔

انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بارڈر پر 43 کلومیٹر پر باڑ لگائی جا چکی ہے، جبکہ 700 قلعے تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ بقیہ 2075 کلومیٹر پر باڑ لگانے کا عمل بھی جاری ہے، جس پر 56 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

سرحد پر گزرگاہوں کے حوالے سے سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ بلوچستان میں بدینی، انگور اڈہ اور خارلاچی کی گزرگاہ جلد کھول دی جائے گی جبکہ شمالی وزیرستان میں غلام خان کی گزرگاہ دسمبر میں کھولی جائے گی۔

سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغانستان میں کلیدی اور کامیاب ملاقاتیں ہوئیں، جن میں افغان صدر نے پاکستان کو پیغام دیا کہ ’مفاہمتی عمل کیلئے آگے بڑھیں آپ کیساتھ ہیں‘۔ سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن نے استفسار کیا کہ کیا افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن ہے یا بین الاقوامی سرحد؟ جس پر سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی سرحد ہے، سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کام جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں