95

مسلم لیگ کا عدلیہ اور فوج سے ٹکرا ئو کی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد (18 اکتوبر 2017)حکمران جماعت کے منتخب اراکین اسمبلی میں شدید بے چینی کی فضا بڑھتی جارہی ہے، مرکزی قیادت کی طرف سے عدلیہ اور فوج سے مسلسل ٹکرا ئو کی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ ارکان اسمبلی میں بے چینی اور عدم تحفظ کو جنم دے رہا ہے۔

پنجاب کے 28اضلاع سے تعلق رکھنے والے 98 ارکان قومی اسمبلی ، جن میں فیصل آباد، سرگودھا، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، اوکاڑہ ڈسٹرکٹ کے علاوہ بہاولپور اور ملتان ڈویڑن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ میں ، جو بالعموم ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاںہر گائو ں میں کئی کئی شہید موجود ہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے فوج کے خلاف جاری مسلسل مہم اور ہندوستان کے لئے غیرمعمولی مثبت خیالات کا اظہار شدید مایوسی کا سبب بن رہا ہے اور انہیں آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر الیکشن جیتنا محال لگ رہا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے حالیہ سیشن کے دوران طویل صلاح مشورے کئے کہ ان حالات میں الیکشن 2018ئ کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر رکن پارلیمنٹ نے نامہ نگار سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے فوج اور عدلیہ کے خلاف جاری مسلسل مہم، توہین رسالت کا بل منظور کرنے کی جسارت، کشمیر میں بھارتی مظالم کے باوجود بھارت سے دوستی کے ایجنڈے پر بضد قیادت کی موجودگی میں مسلم لیگ ( ن) کی ٹکٹ پر الیکشن جیتنا تو درکنار عبوری حکومت بننے کے بعدکیمپس لگانا بھی ممکن نہ ہوگا۔ لہذا پنجاب سے تعلق رکھنے والے 98ارکان نے باہم مل کر فیصلہ کیا ہے کہ وہ عبوری حکومت کے قیام سے پہلے اسمبلی سے استعفے دے کر ان سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کریں گے اور آئندہ الیکشن آزاد امیدوار کے طورپر لڑکر ایک مضبوط گروپ کی شکل میں اسمبلی میں جائیں گے اور آئندہ کی وابستگی کا فیصلہ وقت کے تقاضوں کے مطابق کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والے موجودہ ترقیاتی فنڈز کی وصولی کے بعد استعفے دینے والے ارکان کی تعداد کے بہت بڑھ جانے کے امکانات ہیں اوراس میں بلوچستان، کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کے بھی شریک ہونے کی امید ہے۔ بلوچستان سے سینئر رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی پہلے ہی اس نوعیت کا اقدام اٹھانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں