103

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں نے مختلف اوقات میں تین حملے کیے ہیں جس میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق منگل کی دوپہر تیسرا حملہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ساتھ پاک افغان سرحدی علاقے انجرگے زنڈو کے مقام پر کیا گیا۔امقامی لوگوں نے بتایا کہ امریکی جاسوس ڈرون سے ایک مکان پر دو میزائل داغے گئے جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کی صبح قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہی ساتھ پاک افغان سرحد پر واقع علاقے کشکہ رامسر میں ڈرون طیارے نے ایک مکان پر دو میزائل داغے تھے اور اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

پیر منگل کی درمیانی شب سرحدی علاقے میں ہی جاسوس طیارے سے ایک عمارت پر چھ میزائل مارے گئے جس میں 20 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ڈرون حملوں کے بعد جاسوس طیارے فضا میں کافی دیر تک پرواز کرتے رہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جاسوس طیاروں کے جانے کے بعد عمارت سے لاشیں نکالی گئیں۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان حملوں میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈر اور ان کے ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ حملے افغانستان کی حدود میں کیے گئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں بعض مقامات پر آبادی بہت قریب قریب ہے اس لیے یہ تعین مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ افغانستان کا علاقہ ہے یا پاکستان کا۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دو روز کے دوران مسلسل تین ڈرون حملے ہوئے اور اْن میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں