108

پمز ہسپتال کو یونیورسٹی سے الگ کرنے کا بل منظور

اسلام آباد (16 اکتوبر 2017 ) کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے پمز ہسپتال کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے انتظامی طور الگ کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔

کابینہ کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون زاہد حامد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی خواجہ ظہیر ، سیکرٹری کابینہ ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،سیکرٹر ی قانون اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔

کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کمیٹی ممبران کو بریفنگ دی اور بل سے متعلق سوالوں کے جوابات دئیے ۔ڈاکٹر طارق فضل کی خصوصی درخواست پر یہ معاملہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور بل کے تمام پہلووں پر تفصیلی گفتگو کے بعد بل کو کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔

کا بینہ کمیٹی کی منظوری پر وزیر مملکت برائے کیڈ نے کہا کہ مجوزہ بل کو کابینہ کے آئندہ اجلا س کے ایجنڈے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ کابینہ کا اجلاس بدھ کو متوقع ہے۔

واضح رہے کہ 2013میں شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی قائم کی گئی اور پمز ہسپتال کو یونیورسٹی کے ماتحت کیا گیا تھا۔ پمز کے قریباًچار ہزار ملازمین میں سے صرف 22نے یونیورسٹی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ۔

ہسپتال اور یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کو بہتر طور پر چلانے کیلئے دونوں اداروں کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہےَ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نے بطور انچارج وزیر کیڈ مجوزہ بل کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بھیجا تھا ، کابینہ کمیٹی نے اس بل کی منظوری دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں