74

​مطالبات پورا ہونے تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے،پمز ملازمین

پاکستان انسٹٹوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (پمز) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا سب سے بڑا ہسپتال ہےجہاں روزانہ نہ صرف جڑواں شہروں سے بلکہ ملک کے دوسرے اور دور دراز حصوں سےبھی عوام کی بڑی تعداد علاج و معالجہ کی غرض سے آتی ہے

پمز کو چار سال قبل ایک ایکٹ کے تحت شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی (زعبو) کے ساتھ منسلک کردیا گیا تھا مگر ہسپتال کے تمام شعبوں کے ملازمین اس اقدام کو تسلیم کرنے سے انکاری اور گذشتہ چار برسوں سے اس ٖفیصلہ کو واپس لینے کا مظالبہ کر رہے ہیں۔

اگرچہ کئی بار انھیں یہ مسلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے مگر اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا چنانچہ ہسپتال کے ڈاکٹروں سے لیکر خاکروبوں تک تمام ملازمین نے ہرتال شروع کردی جو اب مسلسل تیرہ روز سے جاری ہے۔وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس میں پمز کو زعبو سے الگ کرنے کی منظوری تو دیدی ہے مگر پمز کے احتجاجی ملازمین اس پر راضی نظر نہیں آرہے اور عملی اقدامات ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر سمجھوتہ اور نہ انکے پورا ہونے تک ہڑتال ختم کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں