46

کیپٹن صفدر کے بیان پر پاک فوج کا ردعمل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوج میں پابندی نہیں کہ اس میں صرف خاص مسلک کے لوگ آئیں گے۔ پاکستان آرمی میں عیسائی، ہندو اور سکھ بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملکی سیکیورٹی معاملات کو دیکھتی ہے۔ پاکستان نے اپنے ملک میں جو کرنا تھا کر لیا۔ دوسری جانب متعدد ممالک دہشتگردی کا سامنا نہیں کر سکے لیکن ہماری فوج میں تمام صلاحیت موجود ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے دہشتگردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے.

غیر ملکیوں کی بازیابی بارے بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بحفاظت بازیاب کرائے گئے غیر ملکی افراد کو 2012ء میں طالبان نے افغانستان سے اغوا کیا تھا۔ تاہم اب طالبان اس کینیڈین خاندان کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کل شام 4 بجے ہمارے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ہوئی جس پر پاکستانی فورسز نے کامیاب آپریشن کر کے کینیڈین شہری، اس کی اہلیہ اور تین بچوں کو بحفاظت بازیاب کروایا جس کی امریکیوں نے بھی تعریف کی۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان میں انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے لیکن پاکستانی سرزمین پر صرف پاک فوج کارروائی کرتی ہے۔ مشترکہ آپریشن کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر انٹیلی جنس شیئرنگ ہو گی تو دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا۔

ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک کی معیشت اور سیکیورٹی کا گہرا تعلق ہے۔ ملکی حالات ٹھیک نہ ہونے پر معیشت متاثر ہوتی ہے۔ مل بیٹھ کر ملکی معیشت پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت اگر بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے۔ آرمی چیف نے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں