347

‘مسلمان سارے کافر ھیں’

انڈیا پاکستان کی تقسیم سے پہلے پنجاب کے دل لاھور سے”پرتاب” نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ھندو کا تھا، وھی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی۔۔۔
ایک دن پرتاب نے سـُرخی لگا دی:

مسلمان سارے کافر ھیں

لاھور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باھر لوگوں کا ھجوم اکٹھا ھو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا،، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی۔ مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ھو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔

چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ھی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ھے؟،،جی میرا ھے۔

اس میں جو یہ خبر چھپی ھے کہ مسلمان سارے کافر ھیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ھے؟ جی بالکل میں ھی اس اخبار کا مالک اور چیف ایڈیٹر ھوں تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ھے۔

آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ھیں،،؟ جی جب یہ جرم ھے ھی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ھوں،،مجھے تو خود مسلمانوں نے ھی بتایا ھے جو میں نے چھاپ دیا ھے۔ صبح ھوتی ھے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ھوتے ھیں کہ سامنے والی مسجد واالے کافر ھیں،، وہ ظہر کے بعد شروع ھوتے ھیں تو عشاء تک ھمیں یقین دلاتے ھیں کہ فلاں مسجد والے کافر ھیں اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ھیں کہ میں تو قائل ھو گیا کہ یہ واقعی کافر ھیں اور مجھے یقین ھے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ھو جائے گی بس اگلی تاریخ پر فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ھی تاریخ میں حل ھو جائے گا۔

اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا،، باری باری کٹہرے میں طلب کیا گیا۔ مجمعے میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ دیوبندی – اھل حدیث اور بریلوی الگ الگ کھڑے ھوں۔

بریلوی مولوی سے قرآن ہر حلف لیا گیا، جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندوں اور اھل حدیثوں کے بارے میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا؟ مولوی نے کہا کہ یہ دونوں توھینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ھیں۔ پھر اس نے دیوبندیوں اور اھلِ حدیثوں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ھو گیا،، جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر اھل حدیثوں اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باھر تشریف لے جائیں۔ اس کے بعد دیوبندی اور اھلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواھی کے لئے کہا گیا،، دونوں نے بریلویوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا۔ گواھی کے بعد میجسٹریٹ نے بریلویوں کو بھی عدالت سے باھر بھیج دیا۔

اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ میجسٹریٹ صاحب اپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دھل کہتے بھی ھیں اور کافر ھو کر عدالت سے نکل بھی گئے ھیں اب عدالت میں جو لوگ بچتے ھیں ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ھیں،، لہذا یہ بھی کافروں میں سے ھی ھیں۔ باقی جو مسلمان بچا ھے اسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے۔

میجسٹریٹ نے کیس خارج کر دیا اور……..پرتاب کو بری کر دیا نیز پرتاب اخبار کو دوبارہ بحال کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں