245

لاہور ہائیکورٹ کا جعلی پولیس مقابلہ میں شہری ہلاکت کا نوٹس

لاہور (26ستمبر 2017) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے عدالتی حکم پر محبوس کو پیش کرنے کی بجائے مبینہ طور پرجعلی پولیس مقابلہ میں ہلاک کرنے کا نوٹس لے لیا۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی پولیس مقابلہ میں شہری محمد حیات کی ہلاکت کے معاملے کی انکوائری کے لئے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔

عدالت نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ایڈیشنل آئی جی رینک کے افسران کو شامل کیا جائے، فاضل جج نے پولیس کو حکم دیا کہ مقابلہ کی رپورٹ دس روز کے اندر پیش کی جائے، فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کو 25ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا لیکن آپ نے اس کو مار دیا، عوام عدالتوں میں انصاف کے لئے آتے ہیں آپ ان کو پولیس مقابلوں میں مار دیتے ہیں،پولیس کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ ملزموں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارے، ڈی پی او ساہیوال نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل اور اغوا کے مقدمات درج تھے، ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں مقابلے کے دوران مارا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں