231

نواز شریف پر فرد جرم کے لئے 2 اکتوبرکی تاریخ مقرر

سابق وزیراعظم نوازشریف چند منٹ کے لیے احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔ فرد جرم عائد کرنے کے لئے 2 اکتوبرکی تاریخ مقرر۔ حسن نواز ، حسین نواز ، مریم صفدر اورکیپٹن ر یٹائر صفدر کے وارنٹ جاری ہو گئے ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں دائر تین نیب ریفرنسوں پرسماعت ہوئی ۔ نوازشریف نے عدالت میں حاضری لگائی ۔ احتساب ریفرنسوں کی کاپیاں نوازشریف کے حوالے کی گئیں ۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف سے کہا کہ آپ چلے جائیں تاکہ رش کم ہو.عدالت نے نوازشریف پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 2 اکتوبر کی تاریخ مقررکردی ۔

دوران سماعت سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان کی اہلیہ لندن میں زیر علاج ہیں اس لئے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے ۔نیب پراسیکیوٹر نے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی ۔جس پر عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوط کر لیا۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹرنے شکواہ کیا کہ انہیں ملزم کے پروٹوکول کے باعث عدالت میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمیں آدھا گھنٹہ باہر کھڑا رکھا گیا ۔ اس پرعدالت کی جانب سے کہا گیا کہ مشکلات سے تحریری طور پر آگاہ کریں ۔

نیب پراسیکیوٹرنے عدالت کو بتایا کہ جاتی عمرہ کے سکیورٹی سربراہ اشفاق نے صرف نوازشریف کے سمن وصول کیے ہیں جس کے بعد عدالت نے مریم نواز ، حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے بھی قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں