185

کرسی چلی گئی لیکن انداز حکمرانی نہ گیا

اسلام آباد (26ستمبر2017) نوازشریف احتساب عدالت میں بطور ملزم پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ پہنچے ۔ قافلے میں 44 گاڑیاں تھیں ۔ کارکنوں نے کمرہ عدالت کو سیاسی میدان بنا دیا ۔بڑی پیشی پر سکیورٹی کے بڑے انتظامات کے باوجود بڑی بدنظمی دیکھنے کو ملی ۔

وزیر اعظم ہیں نہ کسی اور سرکاری یا عوامی عہدے پر فائز ۔ لیکن آمد کسی سربراہ مملکت سے کم نہ تھی ۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد بھی میاں نوازشریف سرکاری پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں ۔

نوازشریف احتساب عدالت پیش ہوئے تو ان کے ہمراہ سکیورٹی وزرائ ایم این ایز ، سینیٹر اور پارٹی رہنماﺅں کی 44 گاڑیوں کا قافلہ تھا ۔ سابق وزیراعظم جونہی کمرہ عدالت پہنچے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں ، کارکنوں اور وکلاء نے نعرے بازی شروع کردی ۔ نوازشریف کا سکیورٹی سٹاف اورمسلم لیگ ن کے کارکن موبائل سے عدالتی عملے کی تصاویر بھی بناتے رہے ۔

دوسری جانب نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ پنجاب ہاﺅس سے احتساب عدالت تک 1500 سے زائد سکیورٹی اہلکارڈیوٹی دیتے رہے ۔ احاطہ عدالت میں رینجرز اور ایلیٹ فورس کے خصوصی دستوں نے سکیورٹی انتظامات سنبھال رکھے تھے ۔

فول پروف سکیورٹی کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس کے باہر بدنظمی نظر آئی ۔ وزراءاور مسلم لیگ ن کے رہنماء خاردار تاریںپھلانگتیں رہے ۔ نیب پراسیکیوٹر کو جی الیون کے قریب آگے جانے سے روک دیا گیا ۔ تاہم ان کے تعارف پر انہیں متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کےلئے موجود رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں