172

اسلام آباد کلب میں سنگین بے ضابطگیاں

وفاقی حکومت کے اعلی حکام اور سفارتکاروں کی سوشل سرگرمیوں کیلئے ساٹھ کی دہائی میں اسلام آباد کلب کا قیام عمل میں لایا گیاجو کہ اب ایک مکمل کمرشل ادارہ بن چکا ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ میں اسلام آباد کلب میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ کلب متعدد قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہاہے۔ انیس سو ستر میں اسلام آباد کے دل میں پارلیمنٹ ہاﺅس سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اس کلب کو دو سو چوالیس ایکڑ زمین لیز پر دی گئی ہے اور حیران کن طور پر فی ایکڑ زمین کی قیمت صرف ایک روپیہ وصول کی گئی، اس وقت یہ لیز صرف دس سال کیلئے تھی۔ آڈٹ رپورٹ کہتی ہے کہ یہ لیز دس سال بعد نظرثانی کیلئے تھی مگر یہ کام آج تک نہ ہوسکا۔ اس طرح یہ کلب فی ایکڑ ایک روپیہ کرائے پر سینتالیس سال سے چل رہاہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق چونکہ کلب کمرشل سرگرمیوں میں ملوث ہے اس لیے زمین کی آکشن قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھی اور اس کے تحت ہی کرایہ وصول کیا جاناتھا لیکن اسلام آباد کلب کے معاملے میں سارے ادارے خاموش رہے اور وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے بھی اس کاکوئی نوٹس نہ لیا۔

بتایاگیا ہے کہ جب آڈٹ ٹیم نے کلب کی جانب سے رکنیت دینے کی اہلیت جانچنے کیلئے کلب انتظامیہ سے رابطہ کیا گیاتو اس کا راستہ روکا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کلب انتظامیہ سے تحریری اور زبانی طورپر متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب نہیں دیا گیا اور اس کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا اس لیے کوئی آزادانہ آڈٹ نہیں کیاجاسکاکہ رکنیت دینے کی اہلیت شفاف طریقے سے جانچی جاتی ہے یانہیں۔
اسلام آباد کلب آرڈی ننس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ کلب صرف وفاقی سرکاری حکام اور سفارتکاروں کیلئے بنایا گیاتھا لیکن بعد ازاں اس کی رکنیت کیلئے سات درجے متعارف کرائے گئے ، کلب انتظامیہ نے عام شہریوں اور کمپنیوں کو بھی معاوضے کے عوض ممبرشپ دی ، آڈ ٹ کے مطابق یہ بلااجازت اور غیر قانونی ہے۔

ملک کے کئی بڑے پروفیشنل گالفرز نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کلب انتظامیہ پر الزام لگایا تھاکہ وہ ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کررہی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق گالف کلب میں پرندوں اور انڈوں کی فروخت کا ریکارڈ بھی حوالے نہیں کیاگیا اس لیے کوئی کمنٹ نہیں کیا جاسکتا۔ آڈٹ رپور ٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ کلب میں ممبران کی رہائش کیلئے تعمیر کی گئی عمارت پر پانچ کروڑ تیس لاکھ کی لاگت آئی لیکن اس کیلئے سی ڈی اے سے اجازت مانگی گئی اور نہ ہی نقشہ منظور کیا گیا۔

کلب کو انیس سو اڑسٹھ میں بطور لمیٹڈ کمپنی قائم کیا گیا مگر مسلسل خسارے کی وجہ سے کمپنی ختم کرکے اس کی ملکیت ایک صدارتی آرڈر کے ذریعے انیس سو اٹھہتر میں حکومت نے لے لی۔کلب کو سی ڈی اے کے تحت رکھا گیا مگر اس کا تمام تر انتظام ایک ایڈمنسٹریٹر کے ذریے چلتاہے جو قواعد کے مطابق کیبنٹ ڈویژن کا سیکرٹری ہوتا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ کلب انکارپوریٹڈ باڈی ہے اور نہ ہی حکومت کا کوئی محکمہ ہے اس لیے اس کے احتساب کا کوئی میکنزم موجود نہیں۔ آڈٹ رپورٹ کہتی ہے کہ کلب سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن کے قواعد کے تحت نہیں آتا اور نہ ہی یہ اپنے ممبران کو جواب دہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں