104

دیوسائی صرف پاگل ہی جاتے ہیں

ایک پرانی بلتی کہاوت ہے کہ “دیوسائی صرف پاگل ہی جاتے ہیں”۔ کیونکہ اتنی بلندی پر واقع یہ حسین چراگاہ اپنے دشوار سفر کی وجہ سے سیاحوں کا بھرپور امتحان لیتی ہے۔

اس بلتی کہاوت کے خالق کو اندازہ بھی نا ہو گا کہ آج کل کی مشینی زندگی کس طرح ہمیں اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے۔ ہم اپنے ارد گرد پھیلی قدرت کی شادابیوں کو یکسر نظرانداز کر چکے ہیں۔ اگر اس بھاگتی زندگی سے کچھ دیر بریک لینے کی خواہش ہو، تو شمالی پاکستان کے حسین ترین مقام دیوسائی کا رخ کریں۔

قدرت کا یہ حسین ویرانہ، سکردو شہر سے پنتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ شاہراہ قراقرم سے سکردو آٹھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

یقیناً یہ ایک جان توڑ سفر ہے۔ سکردو سے صد پارہ گاؤں جاتے ہوئے سبز پانیوں سے مزین جھیل صد پارہ کا دیدار ہوتا ہے، جو وسعت اور دلکشی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں صد پارہ ڈیم بھی موجود ہے جہاں سے سکردو شہر کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

جھیل کے بعد مسلسل بلندی کی جانب سفر ہے۔ راستہ کچا ہے اور یاد رہے یہ راستہ مکمل طور پر ایک جیپ ٹریک ہے۔ چالیس منٹ کے بعد آپ دیوسائی پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سے مزید پچاسی کلومیٹر کا جیپ ٹریک کا سفر کرکے آپ استور وادی میں اتر جاتے ہیں۔ یہ سفرتقریباً چار گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

دیوسائی تین ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک وسیع وعریض میدان ہے جہاں سرسبز پہاڑ، چشمے اور خوبصورت پھولوں کی بہتات سیاح کو مہبوت کر دیتی ہے۔ دیوسائی کی وائلڈ لائف بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں آپ کو گلہری سے مشابہت رکھنے والی گولڈن مارموٹ، سرخ لومڑیاں اور ہمالین بھورے ریچھ بھی ملیں گے۔

لیکن ہمالین ریچھوں کی تلاش ایک جوکھم کا کام ہے۔ اور یہ ان جنگلی حیات میں شمار کئے جاتے ہیں جن کی بقا کو شدید خطرہ ہے۔ اس لئے حکومت نے دیوسائی کو نیشنل پارک قرار دیا ہے اور یہاں شکار پر پابندی عائد کی ہے۔

کیمپ لگانے کے لئے دریائے شنگوشگر کے کنارے پر واقعہ بڑا پانی بہترین جگہ ہے۔ بڑا پانی کا مقام دیوسائی کے استور والے حصے میں واقع ہے اور یہ مشہور کیمپنگ سائٹ ہے۔ اگرچہ سلیپنگ میٹریس اور آرادم دہ خیمے کی بدولت رات کو سردی سے بچنے کا انتظام موجود ہے، لیکن رات منفی درجہ حرارت ہونے کے سبب زمین گیلی ہونے کا خطرہ ہے۔

یوں تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود دیوسائی کی رات نہایت سرد گزر سکتی ہے۔ لیکن زندگی میں اس تجربے سے ضرور گزرنا چاہیے۔ یہاں ایک مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ واش روم کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

بڑے پانی سے ایک گھنٹے کی مسافت کی دوری پر حسین ترین جھیل شیوسر واقع ہے۔ اس کے نیلے پانیوں کا اپنا ایک جداگانہ سحر ہے۔ اور اگر آپ کی قسمت اچھی ہو تومطلع صاف ہونے پر آپ نانگا پربت کا دیدار بھی شیوسر سے کر سکتے ہیں۔ یہاں پھولوں کی لاتعداد رنگ برنگی نسلیں آپ کے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور ان پر اڑتی نازک تتلیاں دیوسائی کی رومانویت میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔

خیال رہے دیوسائی آتے وقت گرم جیکٹس کے ساتھ ساتھ سن بلاک اپنے ہمراہ ضرور رکھیں کیونکہ یہاں کی تیز دھوپ کی تمازت سے جلد جل جاتی ہے۔

مجھے وہ دو برٹش سیاح بھلائے نہیں بھولتے جو بڑے پانی سے سورج کے غروب ہونے کا منظر دیکھ رہے تھے۔

ان کے مطابق سورج کے غروب ہونے کا منظر دیوسائی میں دیکھنا ایک ایسی فینٹسی ہے جو ان کو برطانیہ میں بھی نہیں ملی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں بھی ان پاگلوں میں شامل ہوں چکا ہوں جو دیوسائی کا دیدار کر چکے ہیں۔ سچ ہے زندگی میں پاگل پن کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔

تحریر: حسین جاوید افروز

اپنا تبصرہ بھیجیں