181

اسپاٹ فکسنگ: خالد لطیف کی قسمت کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے قائم ٹریبونل خالد لطیف کیس کا فیصلہ بدھ کو سنائے گا۔

پی سی بی زرائع کے مطابق شرجیل خان کی طرح خالد لطیف پر بھی چار سے پانچ الزامات ثابت ہوئے ہیں اور ان پر بھی پانچ سے سات سال کی پابندی کا خدشہ ہے۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ میں اسپٹ فکسنگ کی باز گشت سنائی دی اور شرجیل خان اور خالد لطیف کو بورڈ نے معطل کردیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اصغر حیدر کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل قائم کیا کس میں سابق وکٹ کیپر وسیم باری اور سابق پی سی بی چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا بھی شامل تھے۔اس کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ نے اسپاٹ فکسنگ ملوث ہونے کے جرم میں محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو معطل کردیا تھا۔

محمد عرفان نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ان پر مختصر پابندی اور جرمانہ کیا گیا جبکہ شرجیل خان کو پانچ سال کی پابندی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق خالد لطیف کی جانب سے بار بار عدالت میں پٹیشن دائر کرنے اور عدم تعاون پر ان کے خلاف شرجیل خان سے زیادہ سخت سزا لاگو کی جاسکتی ہے۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق خالد لطیف کے ساتھ کرپشن کے لیے روابط کیے گئے، جب کہ ان پر پی سی بی کے محکمہ نگرانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔خالد لطیف اور ان کے وکلا نے ممکنہ پابندی کی صورت میں شرجیل کی طرح فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری کررکھی ہے۔

خیال رہے کہ خالد لطیف پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن ایکٹ 2015 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں