239

منافقت کے مروجہ اصول

1988 کے الیکشن کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد اور نوازشریف کا سب سے بڑا درد سر یہ تھا کہ کسی طریقے سے بینظیر کو وزیراعظم بننے سے روکا جائے۔

پاکستان جیسے انپڑھ معاشرے میں، جہاں مذہب سب سے منافع بخش بزنس ہو وہاں اس قسم کے سردرد کا علاج بھی مذہب سے ہی ڈھونڈا جاتا ہے، چنانچہ آئی جی آئی کی طرف سے بڑے بڑے بینرز چھپوا کر ملک کے تمام انتخابی حلقوں میں لگوا دیئے گئے۔ ان بینرز پر قرآن کی ایک آیت عربی میں تحریر ہوتی اور نیچے اردو میں اس کا ترجمہ یوں لکھا ہوتا کہ

وہ قوم تباہ ہوئی جس نے اپنی حکمرانی عورت کے ہاتھ دے دی ‘

آئی جے آئی میں مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور کم و بیش تمام قابل ذکر فرقوں کی مذہبی سیاسی جماعتیں شامل تھیں اور یہ بینرز ان سب کی رضامندی سے آئی جے آئی کی انتخابی مہم کا حصہ بنے۔

انہی دنوں عطا الحق قاسمی، زیڈ اے سلہری، الطاف حسن قریشی، عبدالقادر حسن اور مجیب شامی جیسے نامی گرامی کالم نویس بھی بینظیر کے خلاف اور آئی جے آئی کے حق میں مہم چلایا کرتے تھے۔

عطا الحق قاسمی سے اس وقت ایک نجی محفل میں کسی نے سوال پوچھا کہ بینظیر کی حکمرانی میں کیا شرعی عیب ہے؟ جواب میں قاسمی صاحب نے اپنا منہ کھولا اور گھوڑے کی طرح ہنہنا کر ہنسنے لگے اور پھر جواب دیا:

” ہر مہینے کے مخصوص ایام میں عورت نماز، قرآن بھی نہیں پڑھ سکتی، تو پھر حکمران بن کر ان دنوں میں وہ کوئی اہم فیصلہ کیسے کرسکتی ہے؟ ایام مخصوصہ میں کئے گئے تمام فیصلے مکروہ ہوں گے اور اس وجہ سے پورے ملک پر بھی منحوست چھائی رہے گی ”

یہ کہہ کر قاسمی صاحب ایک مرتبہ پھر مسکرانے لگ گئے اور سوال پوچھنے والا غالباً ڈر کر خاموش ہوگیا۔

بعد میں یہ دلیل عطا الحق قاسمی نے تھوڑے الفاظ کے ردوبدل سے اپنے روزن دیوار کالم میں بھی شامل کردی اور خوب داد سمیٹی۔

وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور آج تقریباً 29 برس بعد وقت نے عطاالحق قاسمی کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا کہ اب وہ بیگم کلثوم نواز کے الیکشن جیتنے کیلئے پورا پی ٹی وی کا ائیرٹائم وقف کرچکا، اپنے کالموں میں دن رات کلثوم نواز کی کامیابی کی دہائی دیتا ہے اور ملک کی اگلی وزیراعظم کیلئے مریم نواز کو سب سے موزوں امیدوار قرار دیتا ہے۔

اب کوئی عطا الحق قاسمی صاحب سے یہ پوچھے کہ خاندان شریفیہ کی خواتین کی حکمرانی شرعی لحاظ سے کیسے جائز ہوگئی تو مجھے یقین ہے کہ وہ منہ اٹھا کر ایک مرتبہ پھر مسکرائے گا اور کچھ اس قسم کا جواب دے گا:

” جس شرعی عذر کی بنا پر 35 سالہ بینظیر کی مخالفت کی تھی، اس کا اطلاق 63 سالہ بیگم کلثوم نواز پر نہیں ہوتا ”

لیکن اس کا اطلاق 43 سالہ مریم نواز پر کیسے نہیں ہوتا، اس کا جواب قاسمی صاحب شاید نہ دے سکیں۔

بہرحال وہ دانشور ٹھہرے شرعی عذر کا کوئی نہ کوئی توڑ تو نکالا ہی ہوگا ورنہ مریم نواز کو اگلا وزیراعظم کیسے قرار دیتے.

تحریر: حماد ظفر

اپنا تبصرہ بھیجیں